اردو رپورٹ ڈیسک
یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے ساتھ تنازع میں ایک نئی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے جیفری ایپسٹین سے متعلق الزامات اور مالیاتی اسکینڈلز کو سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ مہم روایتی میزائلوں اور ڈرونز کے بجائے معلوماتی اور ابلاغی ذرائع کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حوثی گروپ نے حالیہ ہفتوں میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات کو اپنی مہم کا حصہ بنایا ہے۔ ان دستاویزات کے حوالے سے یہ دعوے پھیلائے جا رہے ہیں کہ سعودی شاہی خاندان کے قریبی افراد نے خانہ کعبہ کے غلاف کے ٹکڑے جیفری ایپسٹین کو تحفے میں بھیجے تھے۔
یہ الزامات سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے بیانیے کا اہم حصہ بن گئے ہیں۔ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے۔
ویڈیوز، گیت اور سماجی ذرائع ابلاغ کا استعمال
نیویارک ٹائمز کے مطابق حوثی گروپ اپنے دعووں کو پھیلانے کے لیے بیانات، ویڈیوز، تقاریر، گیت اور سماجی ذرائع ابلاغ پر اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کا سہارا لے رہا ہے، تاکہ سعودی عرب کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جاسکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازع دوبارہ شروع ہونے کے بعد اس مہم میں شدت آئی ہے۔ حوثی قیادت اس بیانیے کے ذریعے خود کو اسلام کے محافظ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئِے
غلاف کعبہ کے ٹکڑے جنسی مجرم جعفری ایپسٹین تک کیسے پہنچے؟ – urdureport.com
مکہ مکرمہ سے متعلق الزامات اور حوثی صدر کا بیان
گزشتہ ماہ سعودی عرب نے حوثیوں پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ حوثی گروپ نے اس الزام کو سختی سے مسترد کردیا تھا۔
اس معاملے پر حوثی صدر مہدی المشاط نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا، ’’جن لوگوں نے ایپسٹین کو کعبہ کا غلاف دیا، وہی مکہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘‘
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام کی جانب سے رواں سال کے اوائل میں امریکی محکمہ انصاف کی جاری کردہ ایپسٹین سے متعلق فائلوں یا حوثیوں کے الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سماجی ذرائع ابلاغ پر مہم میں تیزی
حوثیوں سے وابستہ پلیٹ فارمز پر اس بیانیے کو بھرپور انداز میں پھیلایا جا رہا ہے۔ یمنی کامیڈین مصطفیٰ المومری، جن کے سماجی ذرائع ابلاغ پر 27 لاکھ سے زائد پیروکار ہیں، نے بھی اس موضوع پر ایک ویڈیو جاری کی ہے۔
ایک روایتی یمنی موسیقار نے بھی ان دعووں پر ایک گیت تیار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مصطفیٰ المومری 2023 میں جیل سے رہائی کے بعد حوثیوں کے مخالف سے ان کے حامی بن گئے تھے۔ وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو بھی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔
عبدالملک الحوثی کی ایپسٹین فائلوں پر تنقید
حوثی رہنما عبدالملک الحوثی بھی اپنی تقاریر میں جیفری ایپسٹین کا ذکر کرچکے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایپسٹین سے متعلق فائلیں ایسے صہیونی ماحول کو بے نقاب کرتی ہیں جو عالمی رہنماؤں اور بااثر طبقوں کی تشکیل میں کردار ادا کرتا ہے۔
یہ بیانات سعودی عرب اور دیگر عالمی قوتوں کے خلاف حوثیوں کی وسیع تر مہم کا حصہ ہیں، جس میں ایپسٹین سے متعلق تنازع کو اپنے سیاسی بیانیے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
امریکا میں بھی بیانیے کے اثرات کا دعویٰ
نیویارک ٹائمز کے مطابق حوثیوں کی یہ حکمت عملی یمن سے باہر بعض حلقوں میں بھی اثر دکھاتی نظر آرہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے معروف دائیں بازو کے پوڈکاسٹر جیک شیلڈز نے بھی ایپسٹین فائلوں کے تناظر میں حوثیوں کی تعریف کی اور ان کے لیے حمایت کا اظہار کیا ہے۔
یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ ایپسٹین سے متعلق الزامات کو اب صرف تنازع کے اندر ہی نہیں بلکہ عالمی سیاسی مباحث اور سماجی ذرائع ابلاغ پر اثرانداز ہونے کی مہم میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

