اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 15 ستمبر کو مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا فیصلہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں کیا گیا۔ کمیٹی کے فیصلے کے بعد مرکزی بینک نے مختصر اعلامیہ جاری کیا جس میں ملک کے موجودہ مالی اور معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شرحِ سود میں تبدیلی نہ کرنے کی وضاحت کی گئی۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک حالیہ بارشوں اور ممکنہ زرعی نقصان کی صورت میں غذائی مہنگائی کے نئے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ مرکزی بینک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موسم، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پالیسی ریٹ میں کسی تبدیلی سے گریز کیا گیا تاکہ معیشت میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
مالی سال 26-2025 کے لیے جاری کردہ مانیٹری پالیسی شیڈول کے مطابق، اسٹیٹ بینک رواں مالی سال میں آٹھ بار پالیسی کا اعلان کرے گا۔ 30 جولائی کو پہلی پالیسی میں بھی شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا گیا تھا، جب کہ اگلا اعلان 27 اکتوبر کو متوقع ہے۔ اس تسلسل کا مقصد معیشت میں شفافیت اور پیش بینی کو فروغ دینا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے جون 2025 میں مالی سال 24-2025 کی آخری پالیسی میں بھی شرح سود کو اسی سطح پر برقرار رکھا تھا۔ اس سے قبل، 5 مئی 2025 کو پالیسی ریٹ میں ایک فیصد کمی کی گئی تھی، جس کے بعد شرح 12 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد ہو گئی تھی۔ اس کمی کو اس وقت مہنگائی کے رجحانات اور معاشی حالات کی بہتری سے جوڑا گیا تھا۔
معاشی تجزیہ کاروں نے اس بار بھی شرح سود میں کسی کمی کی توقع نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق، موجودہ معاشی ماحول میں پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنا ہی دانشمندانہ اقدام ہے کیونکہ اجناس کی عالمی قیمتوں، درآمدی اخراجات، اور مالیاتی خسارے کے تناظر میں مزید آسانی مہنگائی کے اہداف کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
دوسری جانب، کاروباری برادری اور صنعتی شعبے نے شرح سود کو بلند سطح پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بلند شرح سود قرضہ جات کو مہنگا بناتی ہے جس سے سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑتی ہے، اور کاروباری ترقی متاثر ہوتی ہے۔ کئی صنعتکاروں نے اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ اجلاسوں میں پالیسی ریٹ میں نرمی کی جائے۔

