معروف ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے سابق منگیتر حسن زاہد کو ہراساں کرنے، بلیک میلنگ اور دھمکانے کے باوجود معاف کرنے کی اصل وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ انہوں نے کسی مالی یا قانونی ڈیل کے تحت نہیں بلکہ انسانی ہمدردی، خاندانی روایات اور والدین کی یقین دہانی پر کیا۔
انسٹاگرام پر جاری کی گئی ویڈیو میں سامعہ حجاب نے بتایا کہ واقعے کے بعد ان پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ انہوں نے مبینہ طور پر حسن زاہد کو معاف کرنے کے بدلے رقم یا فائدہ حاصل کیا، تاہم انہوں نے ان تمام چہ مگوئیوں کو سختی سے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا، “لوگ سوال کرتے ہیں کہ میں نے کتنے پیسوں میں معاف کیا؟ لیکن سچ یہ ہے کہ ایسی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں۔”
سامعہ نے بتایا کہ جب انہوں نے حسن زاہد کے خلاف آواز بلند کی، تو انہیں اندازہ ہوا کہ پاکستان میں خواتین کیوں ایسے معاملات پر خاموش رہتی ہیں۔ “جب کوئی لڑکی خود پر ہونے والی زیادتی کے خلاف کھڑی ہوتی ہے تو معاشرہ اسے ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔”
ٹک ٹاکر کے مطابق اگرچہ 25 فیصد لوگ ان پر الزامات لگا رہے تھے، لیکن 75 فیصد عوام ان کے ساتھ کھڑی رہی، جس سے انہیں ہمت اور حوصلہ ملا۔ انہوں نے کہا، “اسی حمایت کی بدولت میں سامنے آئی اور اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔”
