• Home  
  • ملکی گیس پر نئے کنکشنز پر مستقل پابندی عائد
- ٹاپ سٹوری

ملکی گیس پر نئے کنکشنز پر مستقل پابندی عائد

پاکستان میں گھریلو صارفین کے لیے اب ملکی قدرتی گیس پر نیا کنکشن لینا ممکن نہیں رہے گا، کیونکہ وفاقی حکومت نے مستقل بنیادوں پر ان کنکشنز پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے یہ ہدایت وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز […]

پاکستان میں گھریلو صارفین کے لیے اب ملکی قدرتی گیس پر نیا کنکشن لینا ممکن نہیں رہے گا، کیونکہ وفاقی حکومت نے مستقل بنیادوں پر ان کنکشنز پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے یہ ہدایت وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) کو ارسال کر دی گئی ہے۔

نئی پالیسی کے تحت سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ملکی گیس پر نئے کنکشن کے لیے موصول شدہ 30 لاکھ سے زائد درخواستیں منسوخ کر دیں۔ یہ فیصلہ ملک میں قدرتی گیس کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر، درآمدی گیس کی بڑھتی لاگت، اور توانائی کے شعبے کے مالی بوجھ کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے گیس کنکشن کی نئی پالیسی کا فریم ورک بھی جاری کیا ہے، جس میں درآمدی گیس پر مبنی کنکشنز کے لیے 9 شرائط طے کی گئی ہیں۔ ان شرائط کے تحت، نئے گیس کنکشن صرف درآمدی ایل این جی (Liquefied Natural Gas) پر دیے جائیں گے، اور ان پر لاگو ٹیرف، ملک میں دستیاب قدرتی گیس کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ ہوگا۔

فریم ورک کے مطابق، سوئی سدرن اور ناردرن کمپنیاں اب ایک سال میں 50 فیصد نئے صارفین کو ارجنٹ فیس کے ساتھ گیس کنکشن فراہم کریں گی۔ ارجنٹ فیس ادا کرنے والے صارفین کو تین ماہ کے اندر درآمدی گیس پر نیا کنکشن دیا جائے گا، جوکہ موجودہ کنکشن کے طویل انتظار سے بچنے کے لیے متبادل راستہ فراہم کرے گا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں