عالمی جریدے فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ کو بحیرہ عرب میں نئی بندرگاہ بنانے کی پیشکش کردی گئی امریکی حکام کو بحیرہ عرب میں پسنی میں ایک بندرگاہ بنانے اور چلانے ک تجویز پیش کی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ پسنی ایران سے تقریباً 100 میل اور چین کی حمایت یافتہ گوادر بندرگاہ سے 70 میل فاصلے پر واقع ہے، یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ستمبر میں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔
یہ مجوزہ بندرگاہ واشنگٹن کو جنوبی ایشیاء کے سب سے حساس علاقوں میں سے ایک تک سٹریٹجک رسائی فراہم کر سکتی ہے، امریکی سرمایہ کار پسنی میں مجوزہ اس نئی بندرگاہ کو اہم معدنیات بشمول تانبہ اور اینٹیمونی کی نقل و حمل کے لیے ایک ٹرمینل میں تبدیل کریں گے۔فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ 1.2 ارب ڈالر کا منصوبہ پاکستانی وفاقی وسائل اور امریکی حمایت یافتہ ترقیاتی فنڈز کے مشترکہ ذریعے سے مالی امداد حاصل کرے گا۔
معلوم ہوا ہے کہ تجویز کردہ بندرگاہ کو ایک نئی ریلوے لائن کے ذریعے منرلز کی کانوں سے جوڑا جائے گا، جن میں کینیڈا کی بریک مائننگ کے زیرِ ترقی ریکوڈک تانبے اور سونے کا منصوبہ بھی شامل ہے، بندرگاہ میں براہِ راست فوجی اڈے شامل نہیں ہوں گے یعنی یہ کسی امریکی فوجی تنصیب کے طور پر کام نہیں کرے گی۔
، یہ منصوبہ پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں امریکی دلچسپی کے ساتھ بھی مطابقت رکھتا ہے۔عالمی جریدے نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ تانبا، اینٹیمونی اور نیوڈیمیم سمیت اہم معدنیات کا پہلا کنسائمنٹ امریکہ کو بھیجا۔

