تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہر راولپنڈی اسلام اباد کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے دونوں شہروں کو ملانے والی مرکزئی شاہرائیں بند ہیں تاہم شہرویوں کو کچھ متبادل راستے دئیے گئے ہیں جبکہ ٹی ایل پی کی ریلی اس وقت لاہور میں شاہدرہ کے مقام پر ہے، جہاں پولیس اور ٹی ایل پی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
تحریک لبیک کے ترجمان اور دیگر کارکنان نے یہ دعوی کیا کہ ان کی ریلی میں شریک درجنوں افراد شیلنگ اور گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔

ٹی ایل پی کی جانب سے یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے تا ہم بھی تک اس بارئے کوءی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔
راستوں کی بندش کے باعث جڑواں شہروں میں تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہیں جبکہ ایکسپریس وے، فیض آباد اور آئی جی پی روڈ بھی مکمل طور پر بند ہے اور شہریوں کو اس وقت انتہاہی مشکل صورتحال کا سامنا ہے
راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والا فیض آباد انٹرچینج بھی سیل ہے۔ کھنہ پل، کری روڈ اور ڈھوک کالا خان کے راستے بھی تاحال سیل ہیں۔وارث خان، کمیٹی چوک، سکستھ روڈ، شمس آباد، ایران روڈ، راول روڈ، شاہین چوک، صدر اور پرانے ایئرپورٹ سے آنے والے راستے بھی مکمل طور پر بند ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
ٹی ایل پی احتجاج کنیٹینرز سے جڑواں شہر بند لاھور میں سخت احتجاج جاری – urdureport.com
دوسری جانب راولپنڈی انتظامیہ نے شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ایئرپورٹ جانے والے راستوں کو بھی کنٹینر لگا کر سیل کر دیا گیا ہے اور جڑواں شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔
جڑواں شہروں میں انٹرنیٹ سروس دوسرے روز بھی معطل ہے۔ راستوں کی بندش کے باعث تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ممکنہ احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس دوسرے روز بھی معطل ہے۔ فیض آباد کے مقام پر پولیس فورس تعینات ہے اور فیض آباد میں تمام ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کو سیل کردیا گیا ہے۔

