تحریر طارق اقبال چوہدری

تیمور لنگ (1405-1336) انسانی تاریخ کا ایک ایسا مسلمان جنگجو فاتح جو حافظ قران تھا،عالم دین تھا اور دینی اعتبار سے ایسے درجات پر پہنچ چکا تھا کہ اسے مفتی اور فقیہ بھی کہا جا ئے تو بے جا نہیں،کئی عالم دین ان سے مباحثہ سے گریز کرتے وہ فلسفی محقق ابن خلدون جیسوں سے مباحثہ کرتے، تیمور نے میدان میں کبھی شکست نہ کھائی لیکن اس کی شخصیت کا اندازہ لگانا آج تک ممکن نہ ہو سکا اسی تیمور لنگ نے اپنی فتوحات کے دوران کئی شہروں میں انسانی سروں کی کھوپڑیوں کے مینار بنوائے تاکہ دشمنوں میں خوف پیدا ہو۔

امیر تیمور جس کو تیمور لنگ Tamerlane کے نام سے تاریخ میں یاد رکھا جاتا ہے، ایک لڑائی کے دوران امیر تیمور (فولاد) (تیمور لنگ) کی دائیں ٹانگ زخمی ہو گئی اسی چوٹ کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چلتا تھا، اور اسی سے اس کا لقب "تیمور لنگ” (یعنی "لنگڑا تیمور”) مشہور ہوا، تیمور کی فتوحات میں بے دریغ مسلم اور غیر مسلم دونوں ریاستیں شامل تھیں۔ اسی تیمور نے اصفہان میں بغاوت کے بعد تقریباً ستر ہزار لوگوں کو قتل کر کے ان کے سروں سے مینار کھڑے کروائے، بغداد میں نوے ہزار کے قریب انسانوں کو مارا گیا اور ان کی کھوپڑیوں سے درجنوں مینار بنائے گئے، دہلی، دمشق اور حلب میں بھی اس نے قتل عام کے بعد انسانی سروں کے مینار تعمیر کروائے، جو آج تک اس کی سفاکی اور طاقت کی علامت کے طور پر تاریخ میں یاد کیے جاتے ہیں۔
امیر تیمور لنگ تاریخ کا ایسا کردار جس کے بارے کوئی بھی شخص حتمی رائے قائم نہیں کر سکتا تیمور لنگ جو کہ حافظ قران تھا اس نے محض دس سال کی عمر میں اپنے استاد شیخ شمس الدین کے مدرسے سے قران پاک حفظ کر لیا۔ قران و حدیث اور فقہہ کی بات کرتا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہی شخص جب ڈیڑھ لاکھ انسانوں کے سر کٹوا کر ان سے مینار بنواتا تو کٹی ہوئی انسانی گردن سے ابلتا ہوا خون دیکھ کر اتنا خوش ہوتا کہ جس کی حد نہیں۔ے،تیمور کا تعلق برلاس قبیلے سے تھا، تیمور لنگ 9 اپریل 1336ء کو پیدا ہوا۔ جو ترک و منگول نسل کا مخلوط قبیلہ تھا۔وہ بڑیے فخر سے خود کو منگول نسل سے بتایا۔

ازبکستان میں تیمور لنگ کو قومی ہیرو مانا جاتا ہے۔ازبک عوام اسے "امیر تیمور” یا "تیمورِ اعظم” کے نام سے یاد کرتے ہیں،جس نے سلطنت تیموری(1370-1507) کی بنیاد رکھی اور اسے ملک کی شان، اتحاد اور طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ دنیا میں تاریخ دان اس کے با رئے میں حتمی رائے قائم نہیں کر سکے اور ایک جانب اس کے مذہب سے لگاو اور دوسری جانب قتل عام جس میں مسلم ممالک بھی شامل ہوتے اس کو ایک متنازع شخصیت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
امیر تیمور نے اپنی زندگی اور فتوحات کے با رئے میں ایک آپ بیتی بھی لکھی جو کہ پاکستان میں مشہور سیارہ ڈائجسٹ میں قسط وار بھی شائع ہوتی رہی اور سیارہ ڈائجسٹ کے چیف ایڈیٹر امجد روف خان نے کتاب میں ان تمام حقائق کو واضح کیا۔
امیر تیمور لنگ نے ایک مرتبہ چند لیموں کے لیے فارس کو خون میں نہلا دیا جو کہ وہ خود اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں تیمور لنگ لکھتے ہیں کہ جب میں خراسان کے دوسرے سفر کے دوران میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی میرے حکیم نے مشورہ دیا کہ میں فارس (ایران) کے لیموں کا پانی استعمال کروں تو میری بیماری رفع ہو جائے گی تو میں نے سلطان فارس کو اپنے ہاتھ سے ایک خط لکھا کہ میں چونکہ بیمار ہوں اور میرے حکیم نے بیماری کا واحد علاج فارس کے لیموں کا پانی تجویز کیا ہے مجھے کہا گیا کہ میں سلطان منصور سے کہوں کہ میرے لیے تیز رفتار قاصد کے ذریعے لیموں یا لیموں کا رس بجھوا دیں،لہذا میں درخواست کرتا ہوں کہ میرے لیے تھوڑی مقدار میں فارس کے لیموں یا ان کا پانی فوری طور پر روانہ کیا جائے اور یہ بھی لکھا کہ اگر میں بیمار نہ ہوتا اور میری بیماری کی دوا فارس کے لیموں نہ ہوتے تو میں یہ کبھی بھی مطالبہ نہ کرتا لہذا میری درخواست قبول کی جائے۔
تیمور لنگ کہتے ہیں کہ سلطان منصور مظفری نے میرے خط کے جواب میں ایک اور خط لکھا جس میں انہوں نے لکھا کہ میرا دربار سبزی فروش کی دکان نہیں جو تو مجھ سے لیموں مانگ رہا ہے میں عطار ہوں نہ شربت فروش بلکہ فارس کا بادشاہ ہوں تجھے چنگیز کی اولاد ہونے کا گھمنڈ ہے شاید اسی لیے تو نے مجھے حقارت سے دیکھا لیکن یاد رکھ تیرا جد پردادا چنگیز خان بھی فارس پر انکھ اٹھانے کی کوشش نہ کر سکا تیری حیثیت و چنگیز خان کے مقابلے میں چونٹی کے برابر بھی نہیں اگر میں عطار یا لیمو فروش ہوتا تو بھی تیرے لیے فارس کے لیے منہ جو تیری بیماری کا وقت علاج ہے نہ بھیجتا طاقت اسی بیماری سے مر جائے اور دنیا سے چنگیز کی نسل ختم ہو جائے۔


امیر تیمور لکھتا ہے کہ یہ پڑھنے کے بعد میرے غضب کی انتہا نہ رہی میں سمجھ گیا کہ فارس کا حکمران سلطان منصور ایک انتہائی مغرور خود پسند اور بدتمیز شخص ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو ایسا توہین آمیز میں خط نہ لکھتا اور میں نے فیصلہ کیا کہ پہلی فرصت میں سلطان منصور مظفری کو اس گستاخی اور بے ادبی کا مزہ چکھاؤں گا تاکہ دنیا دیکھ لے کہ کس کی نسل ہوئے زمین سے مٹتی ہے۔
امیر تیمور لکھتا ہے کہ مظفری خاندان شروع سے ہی اس میں یہ روایت چلی آرہی تھی کہ جو بھی تخت شاہی پر بیٹھتا سب سے پہلے اپنے نزدیکی افراد خاص طور پر بادشاہت کے امیدوار مردوں اور لڑکوں کو لوہے کی باریک سلائی آگ میں ڈکھا کرجلاد کے ذریعے انکھوں میں پھرواتا اور ان کو اندھا کروا دیتا۔امیر تیمور نے جب فارس پر حملہ کیا تو وہ جو نہی شاہ منصور کے پاس پہنچا اور اس کی تلوار کھینچ لی پھر پوچھا تم مجھے پہچانتے ہو جس پر شاہ منصور حیران ہو کر بولا کیا توفارسی جانتا ہے تو میں نے کہا کہ ہاں اور میرے خیال میں تجھ سے زیادہ بہتر جانتا ہوں اور میرا سوال تھا کہ آیا تو مجھے پہچانتا ہے شاہ منصور نے پھر بے اعتنائی سے جواب دیا نہیں میرے خیال میں تو امیر تیمور کا کچھ سردار ہوگا امیر تو کہتا ہے میں نے اسے کہا میں خود امیر تیمور ہوں میرے لہجے کی کاٹ دار تیز دار خنجر کی طرح شام منصور کے سینے میں اتر گئی۔
اور اس وقت امیر تیمور نے کہا اے پست فطرت انسان میں نے تجھ سے گھوڑوں کے گلے یا سونے کے سکے نہیں مانگے تھے بلکہ جو مانگا تھا وہ تھوڑے سے لیموں تھے اور وہ بھی صرف علاج کی غرض سے اگر میں یہ درخواست کسی چھابڑی والے سے کرتا تھا تو وہ بھی خوشی سے دے دیتا لیکن تو نے ایک بادشاہ ہوتے ہوئے ایک بادشاہ کی درخواست حقارت کے ساتھ ٹھکرا دی۔


امیر تیمور کہتا ہے کہ منصور نے پوچھا تو میرے ساتھ کیا سلوک کرے گا میں نے کہا تیرا سر قلم کروںگا تیرے خاندان کانام و نشان مٹوا دوں گا اس موقع پر شاہ منصور نے امیر تیمور کو التجا کی کہ تو مجھے اور میرے خاندان کو معاف دو تو میں اپنی لڑکی تمہیں دینے کو تیار ہوں جس پر میں امیر تیمور نے کہا اگر میں تیرے لڑکی چاہوں تو وہ اب خود میری ملکیت میں ہے تیری رضامندی یا اجازت کی ضرورت نہیں میں ایسا مرد نہیں جو ایک عورت کی خاطر اپنے فیصلے سے منہ پھیر لوں۔
امیر تیمور لکھتا ہے کہ میرے اشارے پر جلادوں نے اپنا کام شروع کیا سب سے پہلے شاہ منصور کا سر قلم ہوا اور پھر اس ریاست کے 11 شہزادوں کی گردنیں کاٹ دی گئیں میرے حکم سے کٹے ہوئے سر شہر کے دروازوں پر لٹکا دیا گئے اور جنازوں کو قبرستان میں لے جا کر دفن کیا گیا
ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند اور شہر سمرقند میں امیر تیمور کے شاندار مجسمے اور یادگاریں قائم ہیں، جبکہ تاشقند کا مرکزی چوک "امیر تیمور اسکوائر” کہلاتا ہے۔ ازبک حکومت نے 1996ء کو اس کی پیدائش کی 660ویں سالگرہ سرکاری طور پر منائی تھی۔ لیکن دنیا میں اب بھی اس کو ایک متنازع جنگجو کے طور پر جانا جاتا ہے۔
تیمور لنگ شہرِ سمرقند (موجودہ ازبکستان) کے قریب واقع کِش یا شہرِ سبز کا رہنے والا تھا۔اور اس نے اپنی فوجی فتوحات سے تقریباً تیس بڑے شہر اور سو سے زائد علاقے فتح کیے۔اس کی سلطنت چین کی سرحدوں سے لے کر بحیرۂ روم تک پھیلی ہوئی تھی جس میں سمرقند، بخارا، ہرات، اصفہان، بغداد، دمشق، انقرہ اور دہلی جیسے شامل ہیں ۔ تیمور نہایت ماہر جرنیل اور منظم حکمران تھا، اور بعد ازاں سمرقند کو اپنی دارالحکومت بنا کر علم، فن اور تعمیرات کو فروغ دیا۔
یہ بھی پڑھیں
ٹیوڈر تاج کیوں اہم ہو گیا،برطانیہ میں پھر ٹیودر تاج والے پاسپورٹ بنیں گے – urdureport.com
تیمور لنگ مسلمان تھا باقاعدگی سے ،نماز، روزہ اور دیگر اسلامی عبادات کا اہتمام کرتا، خود کو اسلام کا محافظ اور جہاد کا علمبردار ظاہر کرتا بعض اوقات تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی مذہبی تعبیر سیاست، فتوحات اور اقتدار کے مقاصد کے تابع تھی۔ امیر تیمور لنگ 1398ء میں ہندوستان پر حملہ آور ہوا اور دہلی فتح کرنے کے بعد بے شمار خزانہ، سونا، چاندی اور غلام حاصل کیے۔دہلی میں شدید قتل و غارت کے بعد جب اسے مطلوبہ دولت مل گئی تو وہ سخت گرمی، بیماریوں اور طویل سفر کی مشکلات کے باعث چند مہینوں بعد واپس سمرقند لوٹ گیا۔
تاریخ میں صرف امیر تیمور لنگ ہی وہ واحد غیر عثمانی فاتح تھا جس نے 1402ء میں جنگِ انقرہ میں عثمانی سلطان بایزید یلدرم کو شکست دے کر عثمانی سلطنت کو عارضی طور پر کمزور کر دیا تھا، لیکن وہ بھی اس پر قبضہ قائم نہیں کر سکا۔تیمور کے بعد عثمانی سلطنت نے دوبارہ اپنی طاقت بحال کر لی اور چند دہائیوں میں سلطان محمد فاتح کے دور میں بہت مضبوط ہو گئی، حتیٰ کہ اس نے 1453ء میں قسطنطنیہ (استنبول) فتح کر کے بازنطینی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں
نوبیل انعام کا آغاز کیوں ہوا جس کی خواہش طاقتور امریکی صدر بھی رکھتے ہیں۔ – urdureport.com
امیر تیمور لنگ جو اپنی بیتی میں لکھتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں متعدد شہروں کو اس طرح مسمار کیا کہ جب تک دنیا باقی ہے وہ آباد نہ ہو سکے میں نے اب تک مغلوب شہروں کے کروڑوں افراد کے سروں سے مینار بنوائے میں جب کسی شہر میں قتل عام کا حکم جاری کرتا تو وہاں کی گلیوں اور کوچوں میں خون کی ندیاں بہہ نکلتی لیکن جب کسی شہر کے باشندے مزاحمت کے بغیر امان مانگتے تو انہیں کوئی گند نہیں پہنچاتا خاص طور پر جب وہ دین اسلام کے ماننے والے ہوتے۔
تیمور لنگ نے 70 سال کی عمر میں اپنی زندگی کی کہانی لکھنا شروع کی اور یہ وہ وقت تھا جب وہ چین کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا لیکن چین پر حملہ کرنے کا موقع نصیب نہ ہوا کیونکہ اس کی زندگی کی ڈور ٹوٹ چکی تھی امیر تیمور کی زندگی پریہ ایک فرانسیسی مصنف مارسیل بریون کی تحریر ہے جو کہ امیر تیمور نے خود اپنے الٹے ہاتھ سے تحریر کی تھی جنگ میں بھی امیر تیمور کے دونوں ہاتح چلتے وہ تلوار اور کلہاڑے کا استعمال بیک وقت بڑی مہارت سے کرتے۔
تیمور کی سرگزشت "میں ہوں تیمور” کا اصل نسخہ یمن کے بادشاہ جعفر پاشاہ کے پاس محفوظ تھا جعفر پاشاہ نے 1610 میں وفات پائی اور یہ کتاب اس کے لواحقین کو ورثے میں ملی پھر ایک کاتب نے ان یاداشتوں کا ایک نسخہ تیار کیا اور اپنے ساتھ ہندوستان لے آیا اس کے بعد یہ کتاب کس کس کے پاس رہی زیادہ حقائق دستیاب نہ ہوئے تاہم ایک انگریز افسر ( MAECEL BREVEN ) اس کی کتاب ہندوستان سے انگلستان لے گیا اور وہاں پر ڈیوی (DEVI) نام کے ایک انگریز مترجم نے اکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر وائٹ کی مدد سے مزکورہ کتاب کو انگریزی زبان میں منتقل کیا اور یوں یہ اپ بیتی پہلی بار 1783 میں منظر عام پر ائی۔
ازبکستان میں امیر تیمور کو ایک بہادر، منظم حکمران اور قومی فخر کے طور پر دیکھا جاتا ہے،حالانکہ دنیا کے کئی حصوں میں اسے ایک ظالم فاتح کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے لیکن تیمور لنگ کی ذہانت مذہبی لگاو دیی تعلیم اور بہادری سے کسی کو انکار نہیں۔

