• Home  
  • YOU ARE FIRED ایک وائرل جملے نے اس کو کیسے دنیا کا طاقتور ترین انسان بنا دیا ؟
- خاص رپورٹ

YOU ARE FIRED ایک وائرل جملے نے اس کو کیسے دنیا کا طاقتور ترین انسان بنا دیا ؟

تحریر طارق اقبال چوہدری ایک ٹی وی اینکر کو ایک جملہ نے دنیا کا طاقتور ترین انسان بنا دیا جو کہ آج دنیا میں امن لانے اور جنگیں رکوانے کا کریڈٹ لے رہا ہے۔ امریکہ کے صدر جن کو عمومی طور پر دنیا کا طاقتور ترین انسان گردانا جاتا ہے اس میں امریکی صدر ڈونلڈ […]

تحریر طارق اقبال چوہدری

ایک ٹی وی اینکر کو ایک جملہ نے دنیا کا طاقتور ترین انسان بنا دیا جو کہ آج دنیا میں امن لانے اور جنگیں رکوانے کا کریڈٹ لے رہا ہے۔

امریکہ کے صدر جن کو عمومی طور پر دنیا کا طاقتور ترین انسان گردانا جاتا ہے اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو کہ دوسری مرتبہ امریکی صدر منتخب ہوئے اور امریکہ کے 47 ویں صدر بنے جن کی مدت معیاد 20جنوری 2029تک ہے ان کی خاصیت کوئی سیاسی بیک گرانڈ نہیں بلکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کو ایک جملے جس کو وہ اپنے رئیلٹی شو میں اپنی عدالت لگا کر ادا کرتے اس نے دنیا میں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ جس کو وہ ایک شو میں اپنی عدالت لگا کر بولا کرتے اور شو کا اختتام ڈونلڈ ٹرمپ کے اس جملے سے ہوتا جہاں ایک فریق کو مقابلے سے نکال دیا جاتا۔

ٹرمپ کی شہرت کا راز

شو کا بنیادی مقصد

اس شو میں مختلف پس منظر کے نوجوان اور پروفیشنل افراد شامل ہوتے، جنہیں مختلف کاروباری کاموں کا مقابلہ دیا جاتا۔ ہر ہفتے انہیں ایک نیا چیلنج دیا جاتا، جیسے کسی پروڈکٹ کی تشہیر، فروخت بڑھانا، یا نیا بزنس پلان تیار کرنا۔ کامیاب ٹیم کو سراہا جاتا تھا جبکہ ناکام ٹِم ٹرمپ کی عدالت میں جاتِ اور ٹرمپ مخصوص انداز میں you are firedکا فقرہ بولتے اور فیصلہ سنانے میں مخصوص انداز اپناتے انعام اور کامیابی

شو میں شرکت نوجوانوں کا خواب

"The Apprentice” کا فاتح صرف عزت ہی نہیں جیتتا تھا بلکہ اسے ٹرمپ کی کسی کمپنی میں ایک سال کا کنٹریکٹ اور اعلیٰ عہدہ دیا جاتا تھا جہاں وہ ایک سال گزارتا۔ یہ موقع نوجوان کاروباری ذہنوں کے لیے ایک خواب کی مانند ہوتا۔ شو کی وجہ سے وہ حقیقی زندگی میں کامیاب بزنس مین یا میڈیا شخصیت بن گئے۔

ٹرمپ کی شہرت اور اثرات

"The Apprentice” نے ٹرمپ کی مقبولیت کو آسمان تک پہنچا دیا اور یہ پروگرام ڈونلڈ ٹرمپ کی شناخت بن گیا اور وہ ٹی وی اینکر آج کے دور میں دنیا میں خود کو امن کا علمبردار قرار دیتا ہے اور امن کے نو بیل انعام کا ھقدار قرار دیتا ہے جو کہ کئی مرتبہ خود کو نو بیکل انعام کا حقدار قرار دے چکے ہیں۔ لوگ انہیں صرف ایک تاجر نہیں بلکہ ایک سخت مگر منصف رہنما سمجھنے لگے۔ اس شو کی کامیابی کے بعد 2008 میں ایک نیا ورژن شروع کیا گیا جس کا نام تھا "The Celebrity Apprentice”، جس میں مشہور گلوکار، اداکار، اور کھیلوں کے ستارے حصہ لیتے تھے۔

مالی کامیابی کا ذریعہ

ٹرمپ نے اس شو سے زبردست کمائی کی۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے ہر سیزن کے لیے تقریباً 50 لاکھ ڈالر سے زائد وصول کیے اور دنیا میں شہرت بھی ملی جس نے بعد میں ان کی سیاسی مہم میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

سیاست میں انٹری

جب 2015 میں ٹرمپ نے امریکی صدارت کے لیے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، تو عوام پہلے سے ہی انہیں “The Apprentice” کے ذریعے جانتے تھے۔ ان کی ”You’re fired!“والی شخصیت اور عوام سے براہِ راست بات کرنے کا انداز جس میں ان کا مشہور فقرہ سب کچھ اسی شو کی تربیت کا نتیجہ تھا۔ ان کی ٹی وی مقبولیت ان کی انتخابی کامیابی کی ایک بڑی بنیاد بنی۔

ٹی وی شو نے طاقتور انسان بنا دیا

“The Apprentice” صرف ایک ٹی وی شو نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی زندگی کا سنگِ میل تھا۔ اس نے انہیں میڈیا اسٹار سے سیاسی رہنما میں تبدیل کیا اور نہ صرف وہ سیاسی افق پر ابھرے بلکہ دنیا کے طاقتور ترین انسان بن گئے آج وہ امریکہ کے صدر ہیں اور پاک بھارت جنگ غازہ امن معاہدہ سمیت دیگر اقدامات کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں۔ ان کی شخصیت کے جو پہلو خود اعتمادی، جارحانہ انداز، اور غیر روایتی فیصلے جو شو میں وہ کر تے تھے آج بطور صدر بحی ان کا استعمال کر تے ہیں۔ انہوں نے سیاست مین آنے کے بعد گرچہ ٹی وی شو نہیں کیا اور اسے چحوڑ دیا مگر یہی شو ان کی کامیابی کی بنیاد ہے۔شو چحوڑنے کے بعد وہ سیاست میں آئے تو کہتے میں میں امریکہ کا صدر بنوں گا لوگ پہلے زیادہ سیریز نہ لیتے لیکن وقت بدلا اور ایک فقرے سے ملی شہرت نے اس کو دنیا کا طاقتور ترین انسان بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں