مکہ مکرمہ میں ’کنگ سلمان گیٹ‘ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کر نے کا اعلان کیا گیا ہے اس منصوبے کی تکمیل پر مسجد الحرام کے اطراف میں توسیع کی جا ئے گی جس سے مزید نو لاکھ افراد نماز ادا کر سکیں گے۔
سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ’سعودی گزیٹ‘ کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بدھ کو اس منصوبے کا اعلان کیا۔
اس وقت (2025 تک) مسجدِ الحرام میں مجموعی طور پر تقریباً 25 لاکھ (2.5 ملین) نمازیوں کی گنجائش موجود ہے۔ یہ گنجائش داخلی ہالز، صحن، چھتوں، توسیعی حصوں اور اطراف کے میدانوں سمیت ہے۔جبکہ اس کے ذریعے تقریباً 9 لاکھ نمازیوں کے لیے اندرونی اور بیرونی صحنوں میں عبادت کی گنجائش پیدا کی جائے گی جس سے یہ تعداد 34لاکھ تک بڑھ جائے گی۔ابھی رمضان، حج اور جمعہ کے دنوں میں یہ گنجائش عارضی خیمہ جات اور کھلے مقامات کے استعمال سے 30 لاکھ (3 ملین) نمازیوں تک بڑھ جاتی ہے۔

سعودی گزیٹ کے مطابق مکہ شہر کے وسط میں بننے والا یہ منصوبہ شہری انفراسٹکچر کو بدل دے گا اور مزید نو لاکھ نما زیوں کی گنجائش پیدا ہو گی ۔
یہ مکہ مکرمہ میں مسجدِ الحرام کے متصل ایک بڑا ہمہ مقاصد ترقیاتی منصوبہ ہے، جس سے مذید نما زیوں کی گنجائش پیدا ہو گی اور دیگر سہولتیں بھی اس میگا پروجیکٹ کا حصہ ہیں۔

یہ منصوبہ 1 کروڑ 20 لاکھ مربع میٹر کے رقبے پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد مکہ مکرمہ کے بنیادی ڈھانچے اور حجاجِ کرام کے لیے فراہم کی جانے والی خدمات کو سعودی وژن 2030 کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
منصوبے میں رہائشی، ثقافتی اور سروس کی سہولیات شامل ہوں گی، یہ منصوبہ عوامی نقل و حمل کے نظام سے منسلک ہوگا تاکہ مسجد الحرام تک رسائی کو آسان بنایا جا سکے، اور مکہ مکرمہ کے تاریخی ورثے کو جدید فنِ تعمیر کے ساتھ ہم آہنگ انداز میں پیش کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں
سعودی عرب میں ایک سو کلو میٹر تک سونے کے ذخائر دریافت – urdureport.com
یروشلم کی سرنگ سے ملنے والا قیمتی قدیم پتھر اسرائیل کو نہیں دیں گے، صدر اردوان – urdureport.com
یہ منصوبہ 19,000 مربع میٹر پر مشتمل تاریخی و ثقافتی مقامات کی بحالی اور ترقی پر بھی مشتمل ہے، اور 2036 تک 3 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی توقع ہے۔
بابِ سلمان گیٹ منصوبہ رُواء الحرم المکی کمپنی کے تحت تیار کیا جا رہا ہے، جو سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کا حصہ ہے۔ یہ منصوبہ پائیداری، اختراع (innovation)، اور مکہ مکرمہ کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتا ہے

