پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما اچانک سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے متحرک ہو گئے ہیں، جنہو ں نے مشکل وقت مین اپنے لیڈر عمران خان کا ساتھ چھوڑا اب اچانک ان کے دل میں خان کی محبت جاگ آٹھی،ان منحرف اراکین کی تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سے ملاقات کا بھی چرچا ہو رہا ہے۔
جبکہ میڈیا سے ایک گفتگو میں شیخ وقاص نے سابق پی ٹی آئی رہنماؤں کی تنقید کو پرانا چورن قرار دیا اور کہا کہ پچھلے ڈیڑھ سال میں ایسی کوششوں کو پزیرائی نہیں ملی ہے۔انہو ں نے سابق اراکین پر خوب طنز کے تیر چلائے۔
سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری، جنھوں نے 2023 کے دوران نو مئی کے حملوں کے بعد جماعت سے علیحدگی اختیار کی تھی، کا دعویٰ ہے کہ اُن کی شاہ محمود قریشی سے جیل اور ہسپتال میں دو ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
فواد چوہدری کے بقول اُن کا مقصد ملک میں ’بڑھتا ہوا سیاسی درجہ حرارت‘ کم کرنا ہے اور عمران خان سمیت دیگر سیاسی اسیروں کی رہائی ممکن بنانا ہے۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ شاہ محمود قریشی نے بھی اُن کی ان کوششوں کی بھرپور حمایت کی ہے۔
تاہم شاہ محمود قریشی کے وکیل کا کہنا ہے کہ سابق پی ٹی آئی رہنما اچانک ہسپتال پہنچ گئے تھے اور اُن کی صرف کچھ دیر کے لیے شاہ محمود قریشی سے ملاقات ہوئی۔
ادھر پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے فواد چوہدری کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔
عمران اسماعیل اور مولوی محمود کے ہمراہ شاہ محمود قریشی سے تقریباً 45 منٹ تک ملاقات ہوئی۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور سمیت پی ٹی آئی کے متعدد سابق رہنما عمران خان کو ’رہا کروانے کی اس مہم میں اُن کے ساتھ ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں
عمران خان کو بنی گالہ منتقل کر نے کی حکومتی تجویز – urdureport.com
وزیر اعلیٰ کے پی کے کے لیےعمران خان نے ایک سٹوڈنٹ لیڈر کا انتخاب کیوں کیا؟ – urdureport.com

