حمیدتی کا عروج اور سوڈان میں اثر و رسوخ
محمد حمدان دگولو، جو عام طور پر حمیدتی کے نام سے جانے جاتے ہیں، حمیدتی اپنے مخالفین کے لیے خوف اور نفرت کی علامت ہیں، جبکہ ان کے حامی انہیں جرات مند، بے رحم اور ایک بوسیدہ نظام کو ختم کرنے والے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس وقت وہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) می قیادت کر رہے ہیں اور ان کی فورس نے ملک کے تقریباً نصف حصے پر قبضہ کر لیا ہے جو کہ سوڈان کی فوج کے لیے ایک بڑا چلینج ہے مگر ماہرین کو خیال ہے کہ اس ساری لڑائی کاسراغ سونے کی کانوں کی طرف نکلتا ہے جس کی وجہ سے عوام کا قتل عام اور کروڑوں لوگ نقل مکانی پر مجبور
دیہاتوں کو نذرِ آتش کرنے، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے اور اجتماعی زیادتیوں کے واقعات میں حمیدتی کے جنگجوؤں پر الزامات لگائے گئے ہیں۔اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، تقریباً 3 لاکھ افراد مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ان کارروائیوں کو بعض بین الاقوامی اداروں نے نسلی تطہیر (Ethnic Cleansing) قرار دیا۔ہیں۔

الفاشر پر قبضہ
آر ایس ایف نے ایک بڑی کامیابی حاصل کر تے ہوئے الفاشر شہر پر قبضہ کر لیا۔ یہ شہر دارفور کے مغربی خطے میں سوڈانی فوج اور اس کے مقامی اتحادیوں کا آخری مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ اس فتح نے حمیدتی کی پوزیشن کو مزید مضبوط کر دیا اور ملک میں طاقت کے توازن کو ان کے حق میں جھکا دیا۔
سوڈان میں دو جرنیلوں کی لرائی میں اس وقت سب سے زیادہ نقصان سودانی قوم کا ہو رہا ہے اور دنیا کا بڑا انسانی المیہ جنم لے چکا ہے جہا ں پر تین کروڑ افراد کو نقل مکانی کا سامنا ہے جبکہ ہزاروں افراد کو بے دردی کے ساتھ قتل کردیا گیا ہے۔
سوڈان کی معیشت کا سب سے قیمتی اثاثہ
سوڈان افریقہ کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں سونے کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق ملک کے بیشتر زرمبادلہ کا انحصار سونے کی برآمدات پر ہے۔ تاہم یہی دولت اب اقتدار، طاقت، اور بقا کی جنگ کا مرکز بن چکی ہے۔سوڈان کی سب سے بڑی سونے کی کان جبل عامر ہے جو دارفور کے مغربی علاقے میں واقع ہے۔
سوڈانی فوج اور آر ایس ایف دونوں سونے کے علاقوں پر قبضے کے لیے برسرِپیکار ہیں۔ فوج ان علاقوں کا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ آر ایس ایف مغربی اور جنوبی خطوں میں اپنی گرفت مضبوط کر چکی ہے۔ ہر
سوڈان کے سونے پر نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی قوتوں کی بھی نظر ہے۔ متحدہ عرب امارات کے کاروباری گروہ، روس کے ویگنر گروپ، اور دیگر غیر ملکی کمپنیاں خفیہ یا نیم سرکاری سطح پر سونا خریدنے میں ملوث رہی ہیں۔ ان غیر رسمی معاہدوں نے سوڈان کے اندرونی تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔فریق جانتا ہے کہ جس کے پاس سونا ہے، اسی کے پاس اقتدار کی کنجی ہے۔

حمیدتی کی عسکری قیادت اور سونے کی سلطنت
جب دارفور میں دیگر جنجاوید گروہوں نے بغاوت کی، تو حمیدتی نے حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی اور انھیں شکست دی۔ اسی دوران انھوں نے دارفور کی سب سے بڑی سونے کی کان “جبل عامر” پر قبضہ کر لیا۔
سنہ 2015 میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے سوڈانی فوج سے یمن میں حوثیوں کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے فوجی بھیجنے کی درخواست کی۔اس دستے کی قیادت ایک جنرل عبدالفتح البرہان کے پاس تھی، جو اب آر ایس ایف سے برسرِپیکار سوڈانی فوج کے سربراہ ہیںقبضے نے ان کے مالی اور عسکری اثر و رسوخ میں بے پناہ اضافہ
حمیدتی نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں سے علیحدہ علیحدہ معاہدہ کیا کہ وہ انھیں آر ایس ایف کے کرائے ابو ظہبی سے اس تعلق نے حمیدتی کے لیے گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ اماراتی صدر محمد بن زاید کے ساتھ ان کے قریبی تعلق کی ابتدا تھی۔کے فوجی فراہم کرے گا۔
نوجوان سوڈانی ہی نہیں بلکہ ہمسایہ ممالک کے افراد بھی نقد رقم کے لالچ میں آر ایس ایف کے بھرتی مراکز کا رخ کرنے لگے، جہاں انھیں شامل ہونے پر چھ ہزار ڈالر تک ملتے تھے۔حمیدتی نے روس کے ویگنر گروپ کے ساتھ بھی شراکت داری کی، جس کے بدلے میں انھیں اپنے فوجیوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ تجارتی فوائد، خصوصاً سونے کے کاروبار میں، حاصل ہوئے۔کیا۔اس طرح حمیدتی کو سونے کی کانوں پر قبضے کی وجہ سے حکومت پر برتری ملنا شروع ہوئی اور بین الاقوامی سپورٹ بھی۔
یہ بھی پڑھیں
ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کا قیام
سنہ 2013 میں حمیدتی نے باضابطہ طور پر ایک نئی نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی قیادت سنبھالی۔ یہ فورس براہِ راست اس وقت کے صدر عمر البشیر کو جواب دہ تھی۔ حکومت نے جنجاوید ملیشیا کو آر ایس ایف میں ضم کر دیا، انھیں نئی وردیاں، گاڑیاں اور جدید اسلحہ فراہم کیا گیا، اور باقاعدہ فوجی افسران کو بھی ان کی مدد کے لیے تعینات کیا گیا۔
شخصیت اور تاثر
حمیدتی اپنے مخالفین کے لیے خوف اور نفرت کی علامت ہیں، جبکہ ان کے حامی انہیں جرات مند، بے رحم اور ایک بوسیدہ نظام کو ختم کرنے والے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں۔ نوجوانی میں ہی تعلیم ترک کرنے کے بعد حمیدتی نے اونٹوں کی تجارت کے ذریعے روزی کمانا شروع کیا، وہ اپنے اونٹ لیبیا اور مصر تک بیچا کرتے تھے

