حکومت نے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت نئی آئینی عدالت قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ سپریم کورٹ میں میں ہی آئینی بینچ قائم کر نے کا حکومتی پلان کارگر ثابت نہ ہو سکا،اب نئی آئینی عدا لت میں ابتدائی طور پر سات ججز ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے سینیر مو سٹ جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر سمیت ایسے تمام ججز جنہوں نے ما ضی میں ٹف ٹائم دیا وہ آئینی عدالت کے رکن جج نہیں ہو ں گے۔
آئینی عدالت کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بھی سپریم کورٹ کے ججو ں سے تین سال زیادہ کی جا رہی ہے تا کہ سپریم کورٹ سے ریٹائر منٹ کی صورت میں بھی ان ججو ں کو آئینی عدالت کا جج لگایا جا سکے،آئینی عدالت کے ججوں کی عمر 68؍ برس ہوگی۔

توقع ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کو ہی آئینی بینچ کا پہلا چیف جسٹس مقرر کر دے گی اور ان سمیت پانچ موجودہ ججوں کو ہی آئینی عدالت میں لے جایا جائے گا ،دوسری صورت میں ریٹائرڈ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بھی آئینی عدالت کا چیف جسٹس لگائے جا نے کا امکان ہے کیو نکہ ان کی عمر ابھی 66 سال ہے اور وہ دو سال تک آئینی عدالت میں کام کر سکیں گے۔
نئی آئِنی عدالت کو فیڈرل شریعت کورٹ یا اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں منتقل کیا جا ئے گا اور سپریم کورٹ اپنی جگہ موجود رہے گی۔
آئینی عدالت میں تمام صوبوں سے جج لیے جایں گے اور اس میں صرف آئینی نو عیت کے کیسز کو ہی سماعت کے لیے لگایا جائے گا جبکہ با قی روٹین کے کیسز کو سپریم کورٹ میں سنا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں
دریں اثناء ذرائع نے بتایا ہے کہ اہم دفاعی اصلاحات کے حصے کے طور پر، "کمانڈر آف ڈیفنس فورسز” کا عہدہ متعارف کرانےپر غور کیا جا رہا ہے۔یہ نیا عہدہ آرٹیکل 243 میں مجوزہ ترمیم کے تحت زیرِ غور ہے، جس کا مقصد تینوں مسلح افواج کے مابین زیادہ ہم آہنگی اور متحدہ کمانڈ کو یقینی بنانا ہے۔ پیپلز پارٹی نے آرٹیکل 243کے علاوہ با قی تمام ترامیم مسترد کر دی ہیں۔

