تحریر: عبیدالرحمٰن عباسی
اسلام آباد— وفاقی دارالحکومت کے معروف غیر ملکی ریسٹورنٹس، خاص طور پر افغان اور چینی شہریوں کے زیرِانتظام کاروبار، ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ حکام نے ٹیکس چوری اور غیر قانونی کیش لین دین کے الزامات پر ایک مشہور افغان ریسٹورنٹ کو سیل کر دیا ہے، جس کے بعد عوام نے وسیع پیمانے پر تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
’کابل ریسٹورنٹ‘ کی بندش — علامتی کارروائی یا ٹرننگ پوائنٹ؟
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے پوش علاقے ایف سکس مرکز میں واقع ’کابل ریسٹورنٹ‘ کو ایف بی آر اور ضلعی انتظامیہ نے اس وقت سیل کیا جب ٹیموں نے مبینہ طور پر بھاری روزانہ کیش سیلز کے شواہد حاصل کیے جن کی کوئی ٹیکس یا ڈیجیٹل دستاویزات موجود نہیں تھیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ ریسٹورنٹ روزانہ لاکھوں روپے کی سیل کے باوجود کسی رجسٹرڈ ڈیجیٹل نظام کے بغیر کام کر رہا تھا اور ہر بل پر اضافی ’’سروس چارجز‘‘ بھی وصول کیے جا رہے تھے جن کی کوئی ٹیکس رسید موجود نہیں تھی۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل سامنے آیا۔ کئی شہریوں نے کارروائی کو خوش آئند قرار دیا، مگر ساتھ ہی سوال اٹھایا کہ کیا صرف ایک ریسٹورنٹ کو بند کرنا کافی ہے؟ یا حکومت کو دیگر غیر ملکی اور ملکی ہوٹلوں، پوش کلبوں اور گیسٹ ہاؤسز کی بھی چھان بین کرنی چاہیے جو اسی طرز پر کام کر رہے ہیں۔
عوام کا مطالبہ: “صرف ایک نہیں، سب کو چیک کریں”
عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ اگر ایک ریسٹورنٹ کو ٹیکس چوری پر بند کیا گیا ہے تو دیگر ہوٹلوں، کیفیز اور گیسٹ ہاؤسز — چاہے وہ غیر ملکیوں کے ہوں یا پاکستانیوں کے — سب کی جانچ ہونی چاہیے۔
کئی شہریوں نے ٹیکس کلیکٹرز، فوڈ انسپکٹرز اور مقامی انتظامیہ پر بھی انگلی اٹھائی کہ ان اداروں کی بدعنوانی اور چشم پوشی کے بغیر ایسے کاروبار برسوں تک غیر قانونی طور پر نہیں چل سکتے۔. ایک صارف نے لکھا: “صرف ریسٹورنٹ کو بند نہ کریں، ان انسپکٹرز کے دفتر بھی سیل کریں جنہوں نے برسوں یہ سب دیکھ کر خاموشی اختیار کی۔”
— نقد لین دین اور پوشیدہ دولت:
ماہرین کے مطابق ایسے کاروبار جو صرف کیش پر چلتے ہیں، وہ ٹیکس نیٹ سے بچنے کے لیے ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی سے خود کو دور رکھتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف غیر ملکیوں تک محدود نہیں، بلکہ ملک کے بڑے شہروں میں کئی پوش ہوٹل، کیفے اور زیرِ زمین کلب بھی اسی طریقے سے ٹیکس چوری میں ملوث ہیں۔
ایف بی آر کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق ہوٹل اور سروس سیکٹر سے ہر سال تقریباً ایک کھرب روپے کا ٹیکس چوری ہوتا ہے۔
سسٹم کے اندر بدعنوانی:
سابق ایف بی آر اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بہت سے ہوٹل اور ریسٹورنٹ انسپکشن ٹیموں کو ماہانہ “پروٹیکشن منی” یا مفت کھانے کے عوض خاموش رکھتے ہیں۔
ایک ریٹائرڈ افسر نے کہا:“سسٹم ان کاروباریوں کی حفاظت خود کرتا ہے۔ جب انسپکٹرز خود ریسٹورنٹ مالکان کے تنخواہ دار بن جائیں، تو قانون محض مذاق بن جاتا ہے۔”
آگے کا راستہ — دو طرفہ احتساب
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسا نظام لانا ہوگا جس میں صرف غیر قانونی کاروبار ہی نہیں بلکہ ان کے سرپرست سرکاری افسران بھی پکڑے جائیں۔
ڈیجیٹل ادائیگی کو لازمی قرار دینا، الیکٹرانک رسید کا نظام متعارف کرانا اور غیر مطابقت رکھنے والے اداروں پر سخت جرمانے لگانا ضروری ہے۔
عوامی سطح پر بھی ذمہ داری بڑھتی ہے کہ وہ ایسے ریسٹورنٹس کا بائیکاٹ کریں جو رسید نہیں دیتے یا صرف کیش پر اصرار کرتے ہیں۔
نتیجہ: احتساب سب کے لیے برابر ہونا چاہیے
اگرچہ کابل ریسٹورنٹ کی بندش کو حکومت کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ابتدائی قدم ہے۔ اصل اصلاح تب ہوگی جب ہر ٹیکس چور — چاہے وہ غیر ملکی ہو یا پاکستانی، یا کوئی کرپٹ انسپکٹر — سب کو ایک ہی قانون کے تحت جواب دہ بنایا جائے۔
اس وقت تک پاکستان کا ہوٹل و ریسٹورنٹ سیکٹر دو حصوں میں بٹا رہے گا —
ایک وہ جو نظام کا استحصال کرتے ہیں، اور دوسرے وہ جو ایمانداری سے اسے سہارا دیتے ہیں۔

