بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر اڈیالہ جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر ان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں کا دھرنا پولیس نے رات دو بجے کے قریب ختم کرا دیا۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن چلائی جبکہ کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔
اس موقع پر پولیس نے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
سینیٹر مشتاق بھی بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے دھرنے کے مقام پر پہنچے تو وہ بھی واٹر کینن کی زد میں آگئے۔
اس سے قبل پولیس کی جانب سے قبضے میں لی گئی گاڑیوں پر پولیس اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار تھا۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے پانچ گاڑیوں واپس کی تھیں جبکہ دھرنا قیادت نے تمام گاڑیاں واپس کرنے پر دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ رکھ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئیے
عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر سہیل آفریدی کا اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا – urdureport.com
عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، نوٹیفکیشن کسی بھی وقت،وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس – urdureport.com
واضح رہے کہ پولیس نے پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی 14 سرکاری و نجی گاڑیاں قبضے میں لے کر تھانے منتقل کی تھی۔
جبکہ 10 دسمبر انسانی حقوق کے مو قع پر عالمی انسانی حقوق کے دن کے موقع پر ہیومن رائٹس کونسل پاکستان ملک میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں انہو ں نے کہا کہ آج جب دنیا بھر میں انسانی حقوق اور انصاف کی بات کی جا رہی ہے، پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنیں اور خاندان کی خواتین اڈیالہ جیل کے باہر اپنے پیارے کی ملاقات اور قانونی حقوق کی بحالی کے لیے بیٹھی ہوئی ہیں۔
یہ منظر ہمارے نظامِ انصاف کی کمزوری اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی واضح مثال ہے۔ ہم اس درد، تکلیف اور بے بسی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں جو وہ خاندان برداشت کر رہے ہیں، جو انصاف کے منتظر ہیں مگر نظام سے تعاون اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ: تمام سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ہر شہری کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں، زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ کو ملاقات کا حق بلا رکاوٹ دیا جائے، غیر ضروری سختیوں، تاخیرِ انصاف اور غیر انسانی سلوک کا فوری خاتمہ کیا جائے، سابق وزیراعظم عمران خان سمیت تمام قیدیوں کے قانونی، طبی اور انسانی حقوق کی مکمل ضمانت دی جائے۔ انسانی حقوق کسی منصب یا سیاسی وابستگی کے محتاج نہیں — یہ ہر شہری کا بنیادی، غیر مشروط حق ہیں۔

