سعودی عرب میں زیرِ تعمیر جدہ ٹاور جدید فنِ تعمیر کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھنے جا رہا ہے جو کہ دنیا کی پہلی بلند ترین عمارت ہو گی جو ایک کلو میٹر اونچائی کی حد عبور کر ئے گی۔
ٹاور کا ڈیزائن صحرا کے پودوں سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے جو ہوا کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہےایک ہزار میٹر سے زائد بلندی کے ساتھ مکمل ہو تے ہی یہ عمودی عمارت (Vertical City) عمارت اس وقت دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کا ریکارڈ بھی تو ڑ دے گی کیو نکہ یہ عمارت دبئی کے برج خلیفہ سے تقریباً 172 سے 180 میٹر زیادہ بلند ہوگی۔
سعودی عرب کے مستقبل کے وژن اور ترقی کی ایک بڑی علامت بھی بنے گی۔جدہ ٹاور کو ایک ’عمودی شہر‘ (vertical) کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، 160 سے زائد منزلوں اور تقریباً 252 فلورز پر مشتمل یہ عمارت ہوٹل، رہائشی اپارٹمنٹس، دفاتر، ریٹیل اسپیس، فلاحی سہولتوں اور دنیا کے بلند ترین مشاہداتی پلیٹ فارم پر مشتمل ہوگی۔
جدہ ٹاور کا جنوری 2025ء میں تعمیراتی کام دوبارہ شروع کردیا گیا اور اب کام کی رفتار کافی تیز ہو چکی ہے، ہر تین سے چار دن میں ایک نیا فلور مکمل کیا جا رہا ہے جبکہ عمارت کی تقریباً 80 منزلیں تعمیر ہو چکی ہیں۔ منصوبے کے مطابق جدہ ٹاور کے 2028ء تک مکمل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اس کی تکونی بنیاد اور پتلا ڈھانچہ جدہ کے سخت موسمی حالات، شدید گرمی اور تیز ہواؤں کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔
سعودی عرب نے 2008 میں ایک عالمی سطح کی علامتی عمارت بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس لیے جدہ شہر کو چنا گیا کیو نکہ وہ بحرہ احمر کے ساحل پر واقع ہے اور اس شہر کی اپنی تاریخی اہمیت ہے یہاں سیاح ہزاروں کی تعداد میں رخ کر تے ہیں۔اس منصوبے کا مقصد معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے
دنیا کے 10امیر ترین خاندان کون سے؟سعودی شاہی خاندان کی دولت اربوں ڈالر بڑھ گئی – urdureport.com
قبل ازیں اس منصوبے کو ’کنگڈم ٹاور‘ کہا گیا اور اس کی سرپرستی کنگڈم ہولڈنگ کمپنی نے کی جس کی قیادت شہزادہ الولید بن طلال کر رہے تھے۔ ٹاور کا ڈیزائن شکاگو کی معروف فرم ایڈرین اسمتھ گورڈن گل آرکیٹیکچر نے تیار کیا ہے جبکہ انجینئرنگ کی ذمہ داری تھورنٹن ٹوماسیٹی کو دی گئی ہے۔
اتنی بلند عمارت میں لوگوں کی نقل و حرکت کے لیے جدید ترین لفٹ سسٹم نصب کیا جائے گا۔ جو کہ 10 سے 12 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کریں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ فائر سیفٹی ایریاز، مکینیکل فلورز اور اسمارٹ بلڈنگ سسٹمز بھی موجود ہوں گے۔
ٹاور کے نچلے اور درمیانی حصے میں ایک لگژری فائیو اسٹار ہوٹل قائم کیا جائے گا جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ فور سیزنز ہوٹل ہوگا۔

یہ ہوٹل 19ویں سے 27ویں منزل کے درمیان ہوگا اور اس میں تقریباً 180 سے 200 کمرے اور سوٹس شامل ہوں گے۔یہاں اسپا، سوئمنگ پول، فائن ڈائننگ ریسٹورنٹس اور جدہ و بحیرۂ احمر کے شاندار نظارے میسر ہوں گے۔
ہوٹل کے اوپر 120 سے زائد اپارٹمنٹس بنائے جائیں گے جو بزنس مسافروں اور طویل قیام کرنے والوں کے لیے ہوں گے۔ اس کے بعد مستقل رہائشی حصے شروع ہوں گے جہاں 300 سے زائد لگژری اپارٹمنٹس، پینٹ ہاؤسز اور شاہی سوٹس شامل ہوں گے۔ رہائشیوں کے لیے نجی جم، پولز، لاؤنجز اور اسکائی لابیز بھی ہوں گی۔
عمارت کے مختلف حصوں میں فٹنس سینٹرز، اسپا، سوئمنگ پولز اور کلب طرز کے لاؤنجز بنائے جائیں گے تاکہ رہائشیوں، ہوٹل کے مہمانوں اور دفتری عملے کو مکمل سہولتیں میسر ہوں۔ ایک کھلا اسکائی ٹیرس بھی ہوگا جس کا قطر تقریباً 30 میٹر ہوگا۔
جدہ ٹاور میں تقریباً 630 میٹر کی بلندی پر دنیا کا بلند ترین عوامی مشاہداتی پلیٹ فارم قائم کیا جائے گا۔
