الیکٹرک کاریں بنانے والی چین کی سب سے بڑی کمپنی بی وائی ڈی نے ایلون مسک کی امریکی کمپنی ٹیسلا کو بھی مات دے دی ہے اور اس وقت یہ پہلا مو قع ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک وہیکلز بنانے والی کمپنی کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔
بی وائی ڈی نے اعلان کیا کہ گزشتہ سال اس کی بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت تقریباً 28 فیصد بڑھ کر 22 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ ہو گئی جبکہ اس کے مدمقابل امریکی کمپنی ٹیسلا نے بتایا کہ مسلسل دوسرے سال اس کی گاڑیوں کی فروخت میں کمی واقع ہوئی اور 2025 میں اس کی گاڑیوں کی عالمی فروخت تقریباً نو فیصد کم ہو کر 16 لاکھ 40 ہزار یونٹس رہی۔
امریکی کمپنی ٹیسلا کےبارئے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کی سیاسی سرگرمیوں پر بے چینی اور چینی کمپنیوں کی سخت مسابقت نے اس کے کاروبار کو متاثر کیا ہے۔
سال 2025 کے آخری تین ماہ میں ٹیسلا کی فروخت میں 16 فیصد کمی کی وجہ حکومتی سبسڈی کا خاتمہ قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں، پلگ اِن ہائبرڈ اور فیول سیل گاڑیوں کی قیمت میں 7,500 ڈالر تک کمی کی جاتی تھی۔ جبکہ نئے سال میں بھی ٹیسلا گاڑیوں کی فروخت میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے
پاکستان میں پہلی سستی ترین الیکٹرک کار صرف گیارہ لاکھ میں – urdureport.com
سلطان گولڈن کامیابی کے ساتھ ریورس ڈرائیو جمپ کے دو عالمی ریکارڈز توڑنے میں کامیاب – urdureport.com
چین کی سب سے بڑی الیکٹرک کار کمپنی بی وائی ڈی سمیت گیلی(Geely)، ایم جی سمیت دیگر کمپنیوں نے مغربی حریفوں پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اپنی گاڑیوں کی قیمتیں معروف برانڈز سے کم رکھی ہیں۔
بی وائی ڈی نے اس وقت پاکستان میں بھی گاڑیوں کی فروخت شروع کر دی ہے اور اس وقت پاکستان میں بی وائی ڈی نے تین ماڈل متعارف کروائے ہیں۔

