انڈیا کی ریاست بہار میں حجاب اور نقاب کرنے والی خواتین کو جیولرز نے زیور نہ بیچنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر عوامی حلقوں کی جانب سے اس کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس متنازع فیصلے نے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے جس نے بحث کو ملک گیر سطح تک پہنچا دیا ہے۔

بہار میں جیولری دکانوں نے ہدایت جاری کی ہے کہ اگر خواتین پردہ یا ماسک پہن کر آئیں تو ان کو زیور کی خریداری کی اجازت نہیں ہو گی،ایسے گاہکوں کو سونے کی خریداری کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔
یہ فیصلہ آل انڈیا جیولرز اور گولڈ فیڈریشن (AIJGF) بہار کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر کیا گیا ہے۔
فیڈریشن کی ہدایت کے مطابق حجاب، نقاب، اسکارف، ہیلمٹ یا کسی بھی طرح چہرہ ڈھانپنے والے افراد کو صرف اس صورت میں خریداری کی اجازت ہوگی جب وہ اپنا چہرہ عارضی طور پر دکھا کر اپنی شناخت ثابت کریں۔
راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان ایزاز احمد نے اس فیصلے پر تنقید کی اور کہا کہ یہ آئین کے سیکولر اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے ارکان اس اقدام کے پیچھے ہیں۔ حجاب اور نقاب کو سیکیورٹی کے نام پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے
ڈاکٹر وردا قتل ، کس طرح67 تولے سونا قیمتی جان لے گیا – urdureport.com
بنگلہ دیشی حکومت نے شیخ حسینہ واجد کا دس کلو سونا ضبط کر لیا – urdureport.com
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قدم مسلم کمیونٹی کے مذہبی حقوق کو نشانہ بنا رہا ہے اور بنیادی آزادیوں کی خلاف ورزی ہے۔

