وفاقی آئینی عدالت نے ایک تاریخی فیصلہ جاری کر تے ہوئے پرا ئیویٹ اداروں کے ملا زمین کو اولڈ ایج پنشن کا حقدار قرار دیا ہے جس سے پرا ئیویٹ ملازمین کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے۔
عدالت کے مطابق ساڑھے 14 سال سے زائد سروس مکمل کرنے والے ملازمین کو پندرہ سال مکمل تصور کیا جائے گا اور انہیں اولڈ ایج پنشن کی ادائیگی لازم ہوگی۔

عدالت نے پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کو اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کے تحت پنشن کا حق دار قرار دیتے ہوئے ادارے کو تمام درخواست گزاروں کو ماہانہ اولڈ ایج پنشن ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے پنشن سے متعلق سخت تشریح کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ فلاحی قوانین کا مقصد عوام کو ریلیف دینا ہے، محروم کرنا نہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ وہ ملازمین جنہوں نے 15 سال سے کم مگر ساڑھے 14 سال یا اس سے زائد سروس مکمل کر لی ہے، انہیں پنشن کا حق حاصل ہوگا۔ عدالت کے مطابق سروس کا 6 ماہ یا اس سے زائد عرصہ پورا ایک سال تصور کیا جائے گا اور پنشن کے معاملے میں راؤنڈنگ آف کا اصول لاگو ہوگا۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا، جبکہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے فیصلے کا تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ عدالت نے ای او بی آئی کی جانب سے دائر تمام اپیلیں مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے 2024 اور 2025 کے فیصلوں کو برقرار رکھا.
یہ بھی پڑھئیے
حجاب اور نقاب کرنے والی خواتین کو زیور نہ بیچنے کے فیصلے پر تنازع کھڑا ہو گیا – urdureport.com
نادرا،چہرے اور آنکھوں کی اسکیننگ کی بھی بایومیٹرک شناخت تسلیم کر لیا گیا – urdureport.com
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے بالکل درست ہیں اور ان میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ عدالت نے شیڈول کو قانون کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ای او بی آئی کا 2022 کا سرکلر ملازمین کے پنشن کے قانونی حق کو متاثر نہیں کر سکتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ فلاحی قانون کی سخت تشریح کے ذریعے ملازمین کو پنشن سے محروم کرنا سراسر ناانصافی ہے۔
عدالت نے ای او بی آئی کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام متعلقہ درخواست گزاروں کو بلا تاخیر ماہانہ پنشن کی ادائیگی یقینی بنائے۔

