• Home  
  • وینزویلا ۔جہاں عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان سج گیا
- دنیا

وینزویلا ۔جہاں عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان سج گیا

تحریر عبید الرحمن عباسی وینزویلادنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر رکھنے والا ملک آج صرف ایک معاشی بحران کی کہانی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے ٹکرا، پابندیوں کی سیاست، اور بین الاقوامی قانون کے امتحان کی علامت بن چکا ہے۔ برسوں سے یہ سوال اٹھایا جاتا رہا کہ وینزویلا کا زوال […]

وینزویلادنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر رکھنے والا ملک آج صرف ایک معاشی بحران کی کہانی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے ٹکرا، پابندیوں کی سیاست، اور بین الاقوامی قانون کے امتحان کی علامت بن چکا ہے۔

برسوں سے یہ سوال اٹھایا جاتا رہا کہ وینزویلا کا زوال داخلی ناکامی کا نتیجہ ہے یا اسے عالمی طاقتوں کی سیاست میں دانستہ طور پر کمزور کیا گیا۔اب اس بحران نے ایک نیا اور غیر معمولی موڑ اس وقت لیا، جب امریکی حکام نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور انہیں امریکا منتقل کیے جانے کا ایک ایسا واقعہ جس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔

یہ معاملہ محض ایک صدر کی گرفتاری کا نہیں، بلکہ ریاستی خودمختاری، عالمی قانون، توانائی کی سیاست اور طاقت کے نئے عالمی توازن کا سوال بن چکا ہے۔ تیل، دولت اور زوال: بحران کی جڑیں کہاں ہیں؟

وینزویلا کی معیشت دہائیوں تک صرف ایک ستون پر کھڑی رہیتیل۔ ملکی برآمدات کا 90 فیصد سے زائد حصہ خام تیل پر مشتمل تھا۔ ریاستی تیل کمپنی PDVSA کو قومی ترقی کا انجن سمجھا جاتا تھا، مگر بدعنوانی، سیاسی مداخلت اور ناقص انتظامیہ نے اس ادارے کو کھوکھلا کر دیا۔2014 کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گریں تو وینزویلا کی معیشت مکمل طور پر زمین بوس ہو گئی۔ نتائج انتہائی تباہ کن تھے:

افراطِ زر لاکھوں فیصد تک جا پہنچاخوراک اور ادویات نایاب ہو گئیں اسپتال بند، اسکول ویران عوام تیل کے ملک میں ایندھن تک سے محروم ہو گئے یہ بحران صرف معاشی نہیں رہا بلکہ ایک انسانی المیہ میں بدل گیا۔ طاقت کا ارتکاز: جمہوریت سے آمریت تک1999 میں ہیوگو شاویز کے اقتدار میں آنے کے بعد ریاستی طاقت بتدریج ایک فرد اور پھر ایک جماعت کے گرد سمٹتی چلی گئی۔ شاویز کے بعد نکولس مادورو نے عدلیہ، الیکشن کمیشن، فوج اور میڈیا کو حکومتی کنٹرول میں لے لیا۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق وینزویلا میں ہونے والے انتخابات نہ آزاد تھے اور نہ شفاف۔ اپوزیشن رہنماں کو جیلوں میں ڈالا گیا، احتجاج کو طاقت سے کچلا گیا اور اختلافِ رائے کو ریاست دشمنی قرار دیا گیا۔ اسی سیاسی جمود نے عالمی مداخلت کے لیے راستہ ہموار کیا۔صدر مادورو کی گرفتاری: اور تنازع اور عالمی سوالات:امریکی حکام کے مطابق نکولس مادورو کو ایک خصوصی آپریشن کے دوران گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا، جہاں ان پر منشیات اسمگلنگ، بدعنوانی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

اس فعل نے اگرچہ عالمی سطح پر شدید متنازع بنایا ہے، مگر اس نے کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے مشلا کیا کسی خودمختار ملک کے صدر کی بیرونِ ملک گرفتاری بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے؟کیا عالمی قانون صرف کمزور ریاستوں پر لاگو ہوتا ہے؟اور کیا یہ اقدام جمہوریت کے تحفظ کے نام پر طاقت کی سیاست نہیں؟ سوال پیدہ ھوتا ھے کہ امریکا کیوں میدان میں آیا؟امریکا کی وینزویلا میں دلچسپی محض جمہوریت تک محدود نہیں۔

اصل محرکات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔توانائی کا مفاد:وینزویلا کا تیل امریکی ریفائنریوں کے لیے تکنیکی طور پر موزوں اور جغرافیائی طور پر قریب ہے۔ واشنگٹن یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ یہ تیل روس، چین یا ایران کے اسٹریٹجک کنٹرول میں چلا جائے۔جغرافیائی سلامتی:وینزویلا کے روس، چین، ایران اور کیوبا سے قریبی تعلقات امریکا کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھے جاتے ہیں۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک لاطینی امریکا میں ایک مضبوط امریکا مخالف بلاک ناقابلِ قبول ہے۔پابندیاں، حل یا اجتماعی سزا؟:امریکا اور یورپی اتحادیوں نے وینزویلا پر تیل، بینکنگ اور تجارت سے متعلق سخت پابندیاں عائد کیں، جن کا مقصد مادورو حکومت کو کمزور کرنا اور فوج کو بغاوت پر آمادہ کرنا تھا۔ مگر عملی طور پر ہوا یہ کہ حکومت تو برقرار رہی، عوام بدترین متاثر ہوئے۔

خوراک، ادویات، روزگارسب کچھ نایاب ہوتا چلا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی عالمی انسانی حقوق تنظیمیں ان پابندیوں کو اجتماعی سزا قرار دیتی ہیں۔روس، چین اور ایران: خاموش مگر مضبوط کھلاڑی:روس نے وینزویلا کو اسلحہ، فوجی تعاون اور توانائی کے منصوبوں کے ذریعے سہارا دیا۔ چین نے تیل کے بدلے 60 ارب ڈالر سے زائد قرض فراہم کیا، جبکہ ایران نے ایندھن اور تیل کے تبادلے کے ذریعے امریکا مخالف اتحاد کو تقویت دی۔

مادورو کی گرفتاری کے امریکی دعوے کے بعد، ان ممالک کی شدید تشویش ظاہر کرتی ہے کہ یہ معاملہ محض وینزویلا تک محدود نہیں رہے گا۔دنیا کیوں خوفزدہ ہے؟:وینزویلا کا بحران عالمی خدشات کو جنم دے رہا ہے توانائی منڈی میں عدم استحکام70 لاکھ سے زائد مہاجرین پابندیوں کا بطور ہتھیار استعمال نئی پراکسی جنگ کا خطرہ شامل ھے مبصرین کے مطابق سیاسی انتقالِ اقتدار واضح نہ ہوا تو وینزویلا لیبیا یا شام جیسے منظرنامے کی طرف جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق وینزویلا دنیا کے لیے ایک آئینہ بن گیا ھے اور وینزویلا آج عالمی طاقتوں کی سرد جنگ کا میدان پابندیوں کی سیاست کی تجربہ گاہ اور انسانیت کے اجتماعی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔جب تک عالمی سیاست میں انسان سے زیادہ تیل، طاقت اور اسٹریٹجک مفاد اہم رہیں گے، وینزویلا جیسے بحران جنم لیتے رہیں گیچاہے حکومتیں بدل جائیں یا صدور گرفتار کر لیے جائیں!!

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں