دائمی اسٹریس، نیند کی کمی اور مسلسل تھکن کورٹیسول کی بڑی وجوہات سمجھی جاتی ہیں، ہائی کورٹیسول کی علامات کو بروقت پہچاننا صحت کے توازن کو بحال رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

کورٹیسول بیماری عام طور پر اُس حالت کو کہا جاتا ہے جس میں جسم میں کورٹیسول ہارمون کی مقدار زیادہ یا کم ہو جاتی ہے۔ کورٹیسول ایک اہم ہارمون ہے جو ایڈرینل گلینڈ بناتے ہیں اور یہ اسٹریس، بلڈ پریشر، شوگر، اور مدافعتی نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔
کورٹیسول کو عموماً اسٹریس ہارمون کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمون میٹابولزم، بلڈ پریشر اور ذہنی دباؤ کے دوران جسم کے ردعمل کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگرچہ کورٹیسول زندگی کے لیے ضروری ہے اور عارضی دباؤ میں جسم کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے، تاہم اس کی مسلسل بلند سطح جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
مدافعتی نظام کی کمزوری
طویل عرصے تک ہائی کورٹیسول جسم کے مدافعتی نظام کو دبا دیتا ہے، جس سے بار بار انفیکشن، زخموں کا دیر سے بھرنا اور سوزش سے متعلق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ کورٹیسول قلیل مدت کے دباؤ میں جسم کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن اس کی مستقل زیادتی آہستہ آہستہ جسمانی صحت اور جذباتی توازن کو متاثر کرسکتی ہے۔ ان علامات کو بروقت سمجھ کر اسٹریس مینجمنٹ، بہتر نیند اور صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر طویل مدتی مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
مناسب آرام کے باوجود مسلسل تھکن
ہائی کورٹیسول کی سب سے عام علامت مستقل تھکاوٹ ہے۔ پوری نیند لینے کے باوجود انسان خود کو نڈھال اور ذہنی طور پر بوجھل محسوس کرتا ہے، کورٹیسول کی زیادتی جسم کی قدرتی نیند جاگنے کی گھڑی کو متاثر کرتی ہے، جس کے باعث رات بھر مناسب بحالی نہیں ہو پاتی۔
بے چینی اور چڑچڑاپن میں اضافہ
کورٹیسول کی بلند سطح اعصابی نظام کو مسلسل فائٹ یا فلائٹ موڈ میں رکھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بے چینی، گھبراہٹ، موڈ میں تیزی سے تبدیلی اور جذباتی ردعمل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ سکون محسوس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

کورٹیسول چربی کو ذخیرہ کرنے میں مدد دیتا ہے، خصوصاً پیٹ کے حصے میں۔ اس کے ساتھ میٹھے اور چکنائی والی غذا کی خواہش بھی بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے صحت مند خوراک کے باوجود وزن کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے
مینو پاز کیا ہیں،مینوپاز کی دوا کی منظوری – urdureport.com
خواتین میں مردوں سے زیادہ ڈپریشن کا خطرہ کیوں؟ – urdureport.com
نیند میں دشواری
رات کے وقت کورٹیسول کی زیادہ مقدار میلاٹونن ہارمون کی پیداوار میں رکاوٹ بنتی ہے، جس سے نیند آنے یا برقرار رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ خراب نیند مزید کورٹیسول بڑھا دیتی ہے اور اس طرح دباؤ کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر بن جاتا ہے۔

