آئی سی سی کی کی تفصیلات کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلے گئے متعدد میچز اس لحاظ سے بھی اہمیت رکھتے ہیں کیو نکہ تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھنے جانے والے میچوں میں سے ایک رہے ہیں اور ان کا ریونیو بھِ دیگر میچوں سے بڑھ کر آیا ہے۔

حکومت نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے، تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم 15 فروری 2026 کو انڈیا کے خلاف میچ نہیں کھیلے گی جس سے براڈ کاسٹرز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میچ کا بائیکاٹ کرنے پر انڈیا کو 14 ہزار کروڑ کا نقصان ہونے کا امکان ہے، پاک بھارت میچ کا انعقاد نہ ہونے سے بھارتی کرکٹ بورڈ، میڈیا اور آئِ سی سی کی نیندیں حرام ہو گئیں۔
واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے انڈیا میں کھیلنے سے انکار پر بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کرتے ہوئے سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا تھا، جسے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے ’نا انصافی‘ قرار دیا تھا۔
دنیا کی دیگر سپورٹس کی طرح کرکٹ میں بھی براڈکاسٹنگ رائٹس سے حاصل ہونے والے ریوینیو (آمدن) کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
کرکٹ فنانسز کے ایک ماہر کا کہنا تھا کہ سنہ 2023 میں پی سی بی کو آئی سی سی کی جانب سے 17 ملین ڈالر کی رقم دی گئی تھی جو تقریباً ساڑھے چار ارب کے آس پاس بنتا ہے۔ یہ رقم آئی سی سی نے براڈکاسٹنگ ڈیلز اور آئی سی سی ٹورنامنٹس سے کمائی ہوتی ہے اور اسے تمام ممالک میں ایک ماڈل کے تحت تقسیم کیا جاتا ہے۔
ٹورنامنٹ کو براڈکاسٹرز کے لیے منافع بخش بنانے کے لیے آئی سی سی کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ یقینی بنانا ہوتا ہے لیکن ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2026 میں ایسا نہیں ہو سکے گا کیونکہ پاکستان انڈیا کے خلاف میدان میں نہیں اترے گا۔
یہ بھی پڑھئیے
پاکستان کا آسٹریلیا کے خلاف سات سال بعد کلین سویپ – urdureport.com
براڈکاسٹنگ ریوینیو کے ماہر نے میڈیا کو بتایا کہ آج براڈکاٹسنگ ویلیو کے اعتبار سے آئی پی ایل کے ایک میچ کی لاگت 13.1 ملین ڈالر ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان سپر لیگ اپنے پورے سیزن کے 34 میچوں سے اس سے کام کماتی ہے۔

