کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے بسنت کے پہلے دو دنوں (یکم اور دوم فروری) کا خرید و فروخت کا ڈیٹا جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پتنگوں، گڈوں، گڈیوں اور پنوکی (ڈور) کی کل فروخت 34 کروڑ روپے رہی۔

ایسوسی ایشن کے مطابق پہلے روز 16 کروڑ روپے جبکہ دوسرے روز 18 کروڑ روپے کی خرید و فروخت ہوئی۔ دوسرے روز لاہور کی مارکیٹوں میں چھ لاکھ سے زائد گڈے، گڈیاں اور پتنگیں فروخت ہوئیں جبکہ 15 ہزار سے زائد پنے (ڈور) بھی بک گئے۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دو دہائیوں بعد بسنت کی واپسی پر عوام میں غیر معمولی جوش و خروش ہے اور پتنگ بازی کا شوق عروج پر ہے۔موچی گیٹ، باغبانپورہ، اسلام پورہ، سمن آباد اور دیگر روایتی مارکیٹوں میں خریداروں کا رش دیکھنے میں آیا جہاں مختلف سائز اور رنگ برنگی پتنگیں، گڈے اور پنے دستیاب تھے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس سال فروخت میں پچھلے سالوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے کیونکہ حکومت نے سخت ضوابط کے ساتھ بسنت منانے کی اجازت دی تھی جس سے لوگوں میں پرجوش شرکت دیکھی جا رہی ہے۔بسنت 2026 لاہور میں 6، 7 اور 8 فروری کو منایا جائے گا۔
حکومت پنجاب نے پتنگ اور ڈور کی فروخت یکم سے آٹھ فروری تک محدود کر رکھی ہے جبکہ صرف رجسٹرڈ ٹریڈرز کو ہی اجازت دی گئی ہے۔ پلاسٹک، نایلان یا دھاتی ڈور پر مکمل پابندی ہے اور صرف محفوظ مواد کی ڈور استعمال کی جا سکتی ہے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔
کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے بتایا کہ مانگ اتنی زیادہ ہے کہ مقامی مینوفیکچررز آرڈرز پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ دیگر علاقوں سے بھی سامان منگوانے کی اجازت دی جائے تاکہ قیمتیں قابو میں رہیں۔
یہ بھی پڑھئیے
بسنت پر موجیں لگ گئیں، 5 روزہ لمبی چھٹیوں کا اعلان – urdureport.com
یہ کاروباری اضافہ نہ صرف ثقافتی خوشی کا مظہر ہے بلکہ مقامی تاجروں اور صنعت کے لیے معاشی فائدہ بھی ہے۔ تاہم، کچھ رپورٹس میں قیمتیں بڑھنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں جن پر انتظامیہ کو نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ عام شہری بھی اس تہوار کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔
بسنت کی آمد پر لاہور کی فضائیں رنگ برنگی پتنگوں سے بھرنے والی ہیں اور شہری اس تہوار کے منتظر ہیں جو طویل وقفے کے بعد دوبارہ منایا جا رہا ہے۔

