پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اعلان کے تحت نیپرا عوام سے بجلی 11 روپے فی یونٹ میں خریدے گی لیکن حکومت عوام کو 40 روپے فی یونٹ میں فروخت کردے گی، یہ کہاں کا انصاف ہے؟
انہوں نے نیٹ میٹرنگ لائسنسگ پر سینیٹ اجلاس میں بحث کے دوران کہا کہ عوام سے وعدہ کیا گیا تھا آپ سولر لگائیں گے تو ہم آپ کو فائدہ دیں گے، ہم نے زور دیا کہ سولر پینل لگائیں، لوگوں نے لاکھوں روپے کے پینلز پر سرمایہ کاری کی۔
بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ گاؤں میں چھتوں پر سولر پینل لگائے گئے لوگوں نے قرض لے کر سولر پینل لگائے، کچھ ماہ قبل شک ہوا تھا کہ حکومت چاہتی ہے سولر پینل کی پالیسی تبدیل کرے۔
انہوں نے کہا کہ یہ عوام پر بم ہے، نیپرا کے چیئرمین کو سینیٹ میں بلائیں اور اسے جیل بھیجیں، اگر نیپرا نے کوئی فیصلہ کیا اور حکومت کہے ہم بے بس ہیں تو حکومت قانون سازی کر لے۔
اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ ہم ہرگز عوام کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے، حکومت جواب دے گی ہم کچھ نہیں کررہے اور نیپرا آزاد ارادہ ہے جس نے یہ سب کیا ہے۔
پی ٹی آئی سینیٹر نے یہ بھی کہا کہ نیپرا آزاد نہیں ہے، نیپرا وہی پالیسی بناتی ہے جس کی حکومت ہدایت دیتی ہے، آئی پی پیز بے شک بجلی پیدا نہ بھی کرے تو انہیں پیسے دیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے

