اپ نے اکثر فلموں اور ڈراموں میں تو یہ دیکھا ہو گا کہ کوئی غریب لڑکی کسی لڑکے کا روپ دھار کر خاندان کی کفالت کے لیے کیفے یا ہوٹل میں ویٹر کا کردار ادا کرتی ہے مگر ایسا واقعہ حقیقت میں بھی سامنے آگیا۔
افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان فورسز نے مردانہ لباس پہن کر کیفے میں کام کر نے والی ایک نوجوان لڑکی کو گرفتار کر لیا جس نے لڑکے کا روپ دھارنے کے لیے بال کٹوائے تاکہ کوئی پہچان نہ سکے۔
See this Instagram video by @theafghanaffair https://t.co/0SHv2W830c
— Urdu Report (@UrduReportpk) February 12, 2026
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے 13 سالہ نوریہ نامی لڑکی گزشتہ تین برس سے "نور احمد” کے نام سے ایک کیفے میں ملازمت کر رہی تھی جو کہ ماہانہ ایک ہزار افغان کماتی تھی۔
نوریہ نے بتایا کہ والد کی وفات کے بعد ان کے گھر میں کوئی مرد نہیں تھا جو کہ کما سکے اس لیے اپنے بہن بھائیوں کا پیٹ پالنے کے لیے اس کو لڑکے کا روپ دھار کر ملازمت کرنا پڑی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں نوریہ نے بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد وہ اپنے خاندان کی واحد کفیل تھی اور شدید غربت کے باعث مردانہ لباس پہن کر کام کرنے پر مجبور ہوئی۔
اس کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی تاہم آخرکار اس کا راز فاش ہوگیا اور اسے حراست میں لے لیا گیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان نے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں خواتین کی تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
سرکاری و نجی شعبوں میں افغانستان میں خواتین کے کام کرنے پر پابندیاں عاید ہیں۔چھٹی جماعت کے بعد لڑکیوں کی کی علیم پر پابندی لگا رکھی ہے ۔
نوریہ کی گرفتاری نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے اور ایک بار پھر افغان خواتین کو درپیش مشکلات اور بنیادی حقوق کے مسئلے کو اجاگر کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے

