ہزاروں سال سے آبنائے ہرمز Strait of Hormuz کا یہ چھوٹا سا آبی راستہ عالمی تجارت کی شہ رگ رہا ہے۔
یورپ اور ایشیا کے درمیان سامان کی نقل و حمل اسی راستے سے ہوتی رہی۔آج بھی اس آبی گزرگاہ کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ اب اسے عالمی توانائی کی سپلائی لائن اور جغرافیائی کشیدگی کے اہم ترین ہاٹ اسپاٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔
ماضی سے امریکہ اور ایران کا تنازع
ماضی میں بھی اس علاقے میں کئی کشیدہ واقعات پیش آ چکے ہیں۔ 1988 میں امریکی جنگی جہاز نے ایک ایرانی مسافر بردار طیارہ مار گرایا تھا جس میں 290 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
امریکہ کا کہنا تھا کہ اسے غلطی سے لڑاکا طیارہ سمجھ لیا گیا تھا جبکہ ایران نے اسے دانستہ حملہ قرار دیا۔
بعد کے برسوں میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان اس علاقے میں کشیدگی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں اور ایران متعدد بار مغربی پابندیوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دے چکا ہے
جغرافیائی محلِ وقوع اور اہمیت

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک اہم سمندری راستہ ہے جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے۔ اس کے داخلے اور اخراج کے مقامات تقریباً پچاس کلومیٹر چوڑے ہیں جبکہ درمیان میں سب سے تنگ مقام پر اس کی چوڑائی تقریباً چالیس کلومیٹر رہ جاتی ہے۔
یہ سمندری راستہ اتنا گہرا ہے کہ بڑے تجارتی جہاز اس کے وسط میں سفر کرتے ہیں۔ بڑے آئل ٹینکر عموماً تقریباً دس کلومیٹر چوڑے مخصوص چینل کے اندر ہی سفر کرتے ہیں تاکہ محفوظ طریقے سے گزر سکیں۔
ٹینکر جنگ اور تاریخی پس منظر
1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تیل کی رسد اور برآمدات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
اسی وجہ سے اس تنازع کو تاریخ میں “ٹینکر جنگ” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اسی پس منظر میں بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کے فلیٹ کو تجارتی جہازوں کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی گئی۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی مقدار
اس راستے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں تیل کی مجموعی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران جیسے ممالک اپنا تیل اسی راستے سے دنیا بھر میں بھیجتے ہیں۔
اس کے علاوہ قطر جو دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک ہے، اپنی برآمدات کے لیے بھی اسی گزرگاہ پر انحصار کرتا ہے۔
فریٹ اینالیٹکس فرم وورٹیکسا کے مطابق گزشتہ سال اوسطاً روزانہ بیس ملین بیرل سے زیادہ خام تیل اور دیگر ایندھن اس راستے سے گزرے۔ اس تجارت کی مالیت تقریباً سالانہ چھ سو ارب ڈالر بنتی ہے۔
بندش کی صورت میں ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کر دے تو دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق سعودی عرب روزانہ تقریباً چھ ملین بیرل خام تیل اسی راستے سے برآمد کرتا ہے جو خطے کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2024 میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے خام تیل اور کنڈینسیٹ کا تقریباً 84 فیصد اور مائع قدرتی گیس کا 83 فیصد ایشیائی ممالک کو گیا۔
چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا اس تیل کے بڑے درآمد کنندگان ہیں۔
امریکہ اور یورپ کا انحصار

رپورٹ کے مطابق امریکہ نے 2024 میں اس راستے سے روزانہ تقریباً پانچ لاکھ بیرل خام تیل اور کنڈینسیٹ درآمد کیا جو اس کی کل تیل درآمدات کا تقریباً سات فیصد بنتا ہے۔
تاہم حالیہ برسوں میں امریکہ کی خلیجی ممالک سے تیل کی درآمدات تقریباً چالیس سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
یورپ کے لیے بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کا حصہ نسبتاً کم یعنی روزانہ ایک ملین بیرل سے بھی کم سمجھا جاتا ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو اس راستے کی بندش سے عرب اور ایشیائی ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔
چین اور ایرانی تیل
چین آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کے سب سے بڑے صارفین میں شامل ہے۔ ایران اپنے تیل کا بڑا حصہ عالمی منڈی سے کم قیمت پر چین کو فروخت کرتا ہے جس سے تہران کو امریکی پابندیوں کے باوجود معاشی سہارا ملتا ہے۔
اندازوں کے مطابق 2024 میں ایران کی برآمد کردہ تیل کا تقریباً نوے فیصد حصہ چین نے خریدا۔
متبادل راستے
آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشے کے باعث خلیجی ممالک نے متبادل راستے بھی تیار کیے ہیں۔ 2019 میں سعودی عرب نے ایک گیس پائپ لائن کو عارضی طور پر خام تیل کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جبکہ متحدہ عرب امارات نے اپنے تیل کے ذخائر کو خلیج عمان کی بندرگاہ فجیرہ سے پائپ لائن کے ذریعے جوڑ دیا ہے جس کی یومیہ صلاحیت پندرہ لاکھ بیرل ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


