وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ 6 اپریل کی ڈیڈ لائن سے قبل معاہدہ چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی یا ممکنہ جنگ کا دورانیہ مجموعی طور پر 4 سے 6 ہفتوں تک ہو سکتا ہے۔ امریکی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مقررہ اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں عرب ممالک سے جنگی اخراجات میں تعاون حاصل کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔
کیرولین لیویٹ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ان میں مثبت پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایرانی حکام عوامی سطح پر مختلف بیانات دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نجی بات چیت میں بعض امریکی نکات سے اتفاق کر چکا ہے۔
امریکہ کا لائحہ عمل
پریس سیکریٹری کے مطابق امریکا اب تک 11 ہزار سے زائد جنگی پروازیں کر چکا ہے۔ان پروازوں کے نتیجے میں ایران کی بحریہ، میزائل پروگرام اور صنعتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی آمد و رفت بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کا نتیجہ ہے، اور آئندہ دنوں میں مزید 20 ٹینکرز کے گزرنے کی توقع ہے۔
کیرولین لیویٹ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی پالیسی دو پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ ایک جانب سخت فوجی دباؤ اور دوسری جانب سفارتی راستہ کھلا رکھنا۔
ان کے مطابق سفارتکاری صدر ٹرمپ کی اولین ترجیح ہے، تاہم معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئیے


