امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ بارئے قوم سے خطاب میں کہا کہ آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم ہوں گے اور فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایران کے اہم فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ کہا کہ ایران آپریشن اپنے اہم مراحل طے کر چکا ہے اور اب اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کے اسٹریٹجک عزائم کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔
صدر ٹرمپ نے خطاب میں ایران کی توانائی تنصیبات کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا
امریکی صدر نے کہا کہ ایران میں گزشتہ دہائیوں میں عوامی مظاہروں کو طاقت سے کچلا گیا تاہم انہوں نے ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
خطاب کے دوران انہوں نے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک، جن میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین شامل ہیں، کے تحفظ کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھئیے
امریکا آئندہ دو سے تین ہفتوں کے اندر ایران جنگ سے باہر آ سکتا ہے، ٹرمپ – urdureport.com
صدر ٹرمپ 6 اپریل سے قبل ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتے ہیں،کیرولین لیوٹ – urdureport.com
تیل کی عالمی منڈیوں پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اب توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہو چکا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کے تیل پر پہلے جیسا انحصار نہیں رہا۔ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تاہم صورتحال جلد معمول پر آسکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جاری تنازع اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو رہا ہے اور جیسے ہی کشیدگی کم ہوگی اہم بحری گزرگاہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز، خود بخود بحال ہو جائیں گی


