امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے (قوم سے خطاب اور حالیہ پریس کانفرنس/لنچ کے دوران) فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کی بیوی بریجیت میکرون سے مبینہ طور پر تھپڑ/دھکا کھانے والے واقعے کا مذاق اڑایا ہے جو کہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
ٹرمپ کی ایک خوبی ہے لگی لپٹی نہیں رکھتے۔
فرانس کاصدر میکرون جسکی بیوی اسے بہت زلیل کرتی ہے اورابھی تک اسکا دایاں جبڑہ( بیوی سے مار کھا کر) زخمی ہے۔میں نےاسے کیخلاف جنگ میں مدد کیلئے فون کیا لیکن اس نےصاف انکارکر دیا۔۔صدرٹرمپ میکرون کے انکار پر اسکو بیوی سےمار کےطعنے#IranWar pic.twitter.com/omNPV3YlUi— Urdu Report (@UrduReportpk) April 2, 2026
امریکی صدر Donald Trump نے فرانسیسی صدر Emmanuel Macron اور ان کی اہلیہ Brigitte Macron سے متعلق ایک بیان میں طنزیہ انداز اپنایا۔
ٹرمپ کی طنزیہ تنقید
اب 2 اپریل 2026 کو، جب ٹرمپ نے ایران کی جنگ کے حوالے سے قوم سے خطاب/پریس ایونٹ کے دوران NATO اتحادیوں (خاص طور پر فرانس) پر تنقید کی تو انہوں نے پھر میکرون کا ذکر کیا اور کہا:
"میں فرانس کو کال کرتا ہوں، میکرون — جس کی بیوی اس کے ساتھ انتہائی برا سلوک کرتی ہے۔ وہ اب بھی jaw پر لگنے والے وار سے صحت یاب ہو رہا ہے۔”
یہ تبصرہ ان کے اس دعوے کے تناظر میں تھا کہ میکرون نے جنگ کے دوران فوجی مدد دینے سے انکار کر دیا تھا۔
ٹرمپ نے میکرون کا لہجہ بھی نقل کیا اور کہا کہ میکرون نے جواب دیا: "نہیں، نہیں، جنگ کے بعد بھیجوں گا، اس کے دوران نہیں”۔یہ ٹرمپ کا معمول کا طنزیہ انداز ہے، جس پر سوشل میڈیا پر بہت ردعمل آیا۔ میکرون کی جانب سے اب تک کوئی نیا جواب سامنے نہیں آیا۔
میکرون کا بیوی سے مار کھانے کا واقعہ کیا ہے
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مئی 2025 میں ویتنام کے دورے کے دوران ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں بریجیت میکرون طیارے کے دروازے کے قریب میکرون کے چہرے پر دھکا یا ہلکی تھپڑ مارتی نظر آئیں۔
اس ویڈیو نے سوشل میڈیا اور میڈیا میں خاصی بحث چھیڑ دی، اگرچہ میکرون نے اسے محض "مذاق” اور میاں بیوی کے درمیان معمول کی نوک جھوک قرار دیا۔
بعد ازاں ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعے پر ہلکے پھلکے انداز میں تبصرہ کیا اور "world leader to world leader marital advice” دیتے ہوئے کہا: "Make sure the door remains closed” (یعنی دروازہ بند رکھنا یقینی بنائیں)۔ ان کا یہ جملہ طنز اور مزاح کے طور پر لیا گیا اور پریس میں اس پر قہقہے بھی لگے، جبکہ کچھ حلقوں نے اسے غیر سنجیدہ اور سفارتی آداب کے خلاف بھی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئِے


