امریکی خلائی ادارے ناسا NASA کے آرٹیمس ٹو Artemis II مشن نے چاند کے گرد تاریخی پرواز مکمل کرتے ہوئے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
مشن کے خلا باز زمین سے تقریباً 252,756 میل (چار لاکھ کلومیٹر سے زائد) دور جا پہنچے، جو اس سے قبل انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ فاصلہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس طرح انہوں نے Apollo 13 کا سابقہ ریکارڈ بھی توڑ دیا۔
جب زمین سے رابطہ کٹ گیا
مشن کے دوران Orion خلائی جہاز چاند کے قریب سے گزرا اور اس کے بعد تقریباً پانچ ہزار میل مزید آگے جا کر زمین کی طرف واپسی کا سفر شروع کیا۔
اس مرحلے پر خلائی جہاز نے چاند کے پچھلے حصے (فار سائیڈ) سے گزرنے کے دوران تقریباً 40 منٹ کے لیے زمین سے رابطہ کھو دیا، جو کہ ایک متوقع سائنسی عمل ہے کیونکہ چاند ریڈیو سگنلز کو روک دیتا ہے۔
خلا بازوں نے اس دوران چاند کی سطح کا قریب سے مشاہدہ کیا اور کئی اہم مقامات کا جائزہ لیا، جن میں Orientale Basin اور Hertzsprung Basin شامل ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے کچھ نئے گڑھوں کو نام بھی دیے، جن میں "Carroll” اور "Integrity” قابل ذکر ہیں۔
خلا با،وں نے چاند کی دوسری جانب کیا دیکھا
خلا بازوں نے چاند کے قریب پہنچ کر سطح کا نہایت باریک بینی سے مشاہدہ کیا اور خاص طور پر ان علاقوں پر توجہ مرکوز کی جہاں بڑی قدیم ٹکراؤ والی ساختیں موجود ہیں۔
اس دوران انہوں نے Orientale Basin کا تفصیلی جائزہ لیا، جو چاند کے سب سے بڑے اور ارضیاتی طور پر اہم اثراتی (impact) بیسنز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ علاقہ اپنے متعدد حلقہ نما ڈھانچوں (concentric rings) اور پیچیدہ ارضیاتی ساخت کی وجہ سے سائنسدانوں کے لیے خاص دلچسپی رکھتا ہے، کیونکہ یہ چاند کی ابتدائی تاریخ اور بڑے تصادمات کی نوعیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
اسی مشاہدے کے دوران خلا بازوں نے Hertzsprung Basin کو بھی قریب سے دیکھا، جو چاند کے دور دراز حصے میں واقع ایک وسیع اور گہرا اثراتی گڑھا ہے۔ یہ بیسن اپنی بڑی وسعت اور نسبتاً محفوظ حالت کی وجہ سے چاند کی قدیم سطحی تاریخ کے مطالعے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے بیسنز چاند کی ابتدائی ارضیاتی سرگرمیوں اور بڑے آسمانی اجسام کے ٹکراؤ کے شواہد محفوظ رکھتے ہیں۔اس مشاہدے کے دوران خلائی عملے نے کچھ نسبتاً چھوٹے اور غیر نامزد گڑھوں کو بھی دستاویزی شکل دی اور انہیں عارضی نام دیے، جن میں "Carroll” اور "Integrity” شامل ہیں۔ یہ نام زیادہ تر ذاتی یا مشن سے جڑے حوالوں پر رکھے گئے تاکہ مستقبل میں ان مقامات کی شناخت اور حوالہ آسان بنایا جا سکے۔
اس طرح کے نام اکثر ابتدائی مشاہداتی مرحلے میں استعمال کیے جاتے ہیں اور بعد میں بین الاقوامی منظوری کے بعد باقاعدہ ناموں میں تبدیل ہو سکتے ہیں
خلا بازوں کے تاثرات
مشن کی ایک خلا باز Christina Koch نے اپنے تاثرات میں کہا کہ چاند کو اتنے قریب سے دیکھنا ایک غیر معمولی اور جذباتی تجربہ تھا، جس نے زمین کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ خلا سے زمین کو دیکھنا انسان کو اس کی خوبصورتی اور نازک حیثیت کا احساس دلاتا ہے۔
یہ مشن مستقبل میں چاند پر انسانی لینڈنگ کی تیاری کا اہم حصہ ہے، جس کے ذریعے سائنسدان چاند کی سطح، ممکنہ لینڈنگ مقامات اور دیگر سائنسی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل کی خلائی تحقیق میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
مشن کی مدت تقریباً 10 دن پر مشتمل ہے اور اس کی واپسی 10 اپریل کو بحرالکاہل میں لینڈنگ کے ساتھ متوقع ہے، جہاں خلائی جہاز سمندر میں اترے گا۔


