ناسا نے آرٹیمس II (Artemis II) چاند مشن کے تیسرے دن (جمعہ کی صبح) زمین کی پہلی تصاویر جاری کیں۔ خلابازوں کا زمین کو دیکھنے کے بعد خوشی دیدنی تھی اور انہوں نے انسانوں کے لیے بہت ہی زبردست پیغام۔جاری کیا۔
یہ 1972 کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو انسانوں کو چاند کے گرد بھیجا رہا ہے۔
اس مشن کے خلاباز زمین سے دور ہونے کے احساس پر بات کر رہے ہیں کہ یہ کوئی "نارمل” بات نہیں بلکہ ایک بہت بڑی کوشش ہے۔
تصاویر کی تفصیل
مشن کے کمانڈر رائیڈ وائزمین (Reid Wiseman) نے ایک تصویر لی جس میں زمین کا جزوی منظر دکھائی دے رہا ہے۔ زمین گھومتی ہوئی بادلوں سے لپٹی ہوئی ہے اور اوریون کیپسول (Orion capsule) کی کھڑکی سے ابھرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
دوسری تصویر میں زمین مکمل طور پر نظر آ رہی ہے، جس کے ماحول کے کچھ حصوں پر شمالی روشنی (Aurora) کی سبز رنگ کی لکیریں پھیلی ہوئی ہیں۔
خلابازوں کے بیانات:

اس وقت خلاباز زمین سے تقریباً 115,903 میل (تقریباً 186,500 کلومیٹر) دور تھے۔
آرٹیمس II کے پائلٹ وکٹر گلوور (Victor Glover) نے جمعرات کی رات اے بی سی نیوز کے ساتھ ویڈیو کال میں کہا:”تم حیرت انگیز لگ رہی ہو، تم خوبصورت لگ رہی ہو۔
"وکٹر گلوور گہرے خلا میں جانے والے پہلے سیاہ فام خلاباز ہیں۔ انہوں نے اتنی دوری سے زمین کو دیکھنے کی اتحاد پیدا
کرنے والی طاقت پر زور دیا اور کہا:”چاہے آپ کہیں سے بھی ہوں یا آپ کی شکل و صورت کچھ بھی ہو، ہم سب ایک ہی لوگ ہیں۔”آرٹیمس II
مشن کی پس منظر کی تفصیل:
یہ مشن 10 دن کا ہے اور خلاباز چاند کے گرد گھوم کر واپس آئیں گے (چاند پر اتریں گے نہیں)۔
عملہ چار ارکان پر مشتمل ہے:

رائیڈ وائزمین (کمانڈر، USA)وکٹر گلوور (پائلٹ، USA)کرسٹینا کوچ (Christina Koch) (USA)جیریمی ہینسن (Jeremy
آرٹیمس ٹو چاند مشن کا مقصد
Hansen) (کینیڈا)اوریون کیپسول کے لائف سپورٹ سسٹم، نیویگیشن اور دیگر سسٹمز کی ٹیسٹنگ کرنا، تاکہ مستقبل میں آرٹیمس III مشن انسانوں کو چاند کی سطح پر اتار سکے۔یہ 1972 کے اپولو 17 مشن کے بعد انسانوں کا سب سے دور تک کا سفر ہوگا۔
مشن کے دوران خلاباز زیادہ سے زیادہ تقریباً 252,757 میل (تقریباً 407,000 کلومیٹر) دور جائیں گے۔
مشن 1 اپریل 2026 کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سنٹر سے لانچ ہوا۔
خلا باوزوں کے فون
خلابازوں نے اپنے ساتھ آئی فون بھی لیے ہیں، جو خلا میں فوٹو اور ویڈیو لینے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں (انٹرنیٹ نہیں چلتا)۔مشن کے دوران خلابازوں نے راکٹ کے اپر سٹیج کو دیکھا اور اوریون کیپسول کی حرکت کی ڈیمو کی (جو مستقبل میں چاند لینڈر کے ساتھ ڈاکنگ کے لیے اہم ہے)۔
یہ بھی پڑھئیے


