ناسا نے اپنے نئے قمری پروگرام Artemis Program کے تحت اپنے چار خلا بازوں کو پچاس سال بعد چاند کے گرد سفر پر روانہ کیا گیا ہے، جو 10 روزہ مشن کے دوران چاند کے قریب جا کر زمین پر واپس آئیں گے اور مستقبل میں انسانی خلائی سفر کی راہیں ہموار کریں گے۔
خلائی تاریخ میں انسان نے آخری مرتبہ 1972 میں چاند پر قدم رکھا تھا، جب NASA کا مشن Apollo 17 کامیابی سے چاند کی سطح پر اترا۔

اس مشن کے خلا باز واپسی پر 100 کلوگرام سے زائد قمری مٹی اور قیمتی نمونے زمین پر لائے، جبکہ اس دوران لی گئی تصاویر نے زمین کو دیکھنے کے انسانی زاویے کو بھی بدل کر رکھ دیا۔
نصف صدی بعد چاند پر جانے کا پروگرام
تقریباً نصف صدی بعد ناسا نے اپنے نئے چاند پر جانے پروگرام Artemis Program کے پروگرام کے تحت ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ Artemis II کے ذریعے چار
خلا بازوں کو چاند کے گرد سفر پر روانہ کیا گیا ہے، جو 10 روزہ مشن کے دوران چاند کے قریب جا کر زمین پر واپس آئیں گے۔اس تاریخی مشن میں Reid Wiseman، Victor Glover، Christina Koch اور Jeremy Hansen شامل ہیں، جو Orion spacecraft میں سوار ہو کر چاند کے گرد چکر لگائیں گے۔
اگلا اقدام کیا ہو گا ؟
آرٹیمس پروگرام دراصل کئی ارب ڈالرز پر مشتمل ایک وسیع خلائی منصوبہ ہے، جس کا مقصد مستقبل میں انسانوں کو دوبارہ چاند کی سطح پر اتارنا ہے۔ اس سلسلے کا اگلا بڑا مرحلہ Artemis III ہوگا، جس کے تحت انسانوں کی چاند پر واپسی متوقع ہے، تاہم اس میں ممکنہ طور پر 2028 تک تاخیر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس پروگرام کا مقصد صرف چاند تک رسائی نہیں بلکہ وہاں مستقل انسانی موجودگی قائم کرنا اور مستقبل میں مریخ جیسے سیاروں تک رسائی کی تیاری بھی ہے۔
یہ بھی پڑھئِے
ایک ارب سال پہلے کے بلیک ہول اسٹارز کاطاقتور خلائی دوربین سے مشاہدہ – urdureport.com
پاکستان میں 5جی اسپیکٹرم نیلامی مکمل،عام آدمی کو کیا فایدہ ہو گا ؟ – urdureport.com
اس کے علاوہ چاند پر ایک مستقل خلائی اسٹیشن قائم کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، جو آئندہ بین الاقوامی خلائی مشنز کے لیے لانچ پیڈ کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب چاند تک رسائی کی یہ دوڑ صرف امریکا تک محدود نہیں رہی۔ چین نے 2030 تک انسان کو چاند پر بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ بھارت بھی اپنے مستقبل کے انسانی قمری مشنز کی تیاریوں میں مصروف ہے۔


