سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع اور شاہی خاندان کے رکن شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز سے اہم ملاقات ہوئی۔
اس ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پاکستانی فوج کے سربراہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد سعودی وزیر دفاع نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا ’ہم نے سعودی عرب پر ایران کے حملوں اور انھیں روکنے کے لیے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔۔ ہم نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ایرانی فریق دانشمندی سے کام لے گا اور کسی غلط فہمی سے گریز کرے گا۔‘
انھوں نے یہ لکھا کہ ’اس ملاقات میں مملکت پر ایرانی حملوں اور انھیں روکنے کے لیے مشترکہ سٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت درکار اقدامات پر بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران ایران کی جانب سے مملکت سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کے معاملے پر خصوصی گفتگو ہوئی، جسے دونوں ممالک کے درمیان موجود مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تناظر میں زیر بحث لایا گیا۔
Met with Pakistan’s Chief of Army Staff and Chief of Defense Forces, Field Marshal Asim Munir. We discussed Iranian attacks on the Kingdom and the measures needed to halt them within the framework of our Joint Strategic Defense Agreement. We stressed that such actions undermine… pic.twitter.com/OuELnf9LU6
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) March 7, 2026
فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں اور اس کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئِے
روس بھی ایران جنگ میں شامل ہو گیا امریکہ کو تشویش لاحق – urdureport.com
ایران میں اسکول پر حملہ امریکی فوج نے کیا تھا۔نیو یارک ٹائمز کی تحقیقات میں انکشاف – urdureport.com
دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایرانی قیادت دانشمندی اور تدبر کا مظاہرہ کرے گی اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے گی جو غلط اندازوں یا غیر ضروری تصادم کا باعث بن سکتے ہیں۔
ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے سفارتی راستوں اور ذمہ دارانہ رویے کو ترجیح دی جانی چاہیے


