کراچی میں سوشل میڈیا پر ایک مبینہ ’شیطانی مجسمے‘ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اس معاملے کی حقیقت سامنے آ گئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ تقریباً دس فٹ بلند مجسمہ کسی مشکوک مقصد کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، تاہم پولیس تحقیقات کے مطابق اس کے پیچھے ایک مختلف وجہ سامنے آئی ہے۔
یہ ویڈیو کراچی کے علاقے کورنگی کے مہران ٹاؤن کی بتائی جا رہی تھی، جس میں سڑک کے کنارے تھرماپول سے بنا ایک بڑا مجسمہ نظر آ رہا تھا جبکہ اردگرد معمول کے مطابق ٹریفک بھی چل رہی تھی۔
مشرقِ وسطیٰ میں بعض مظاہروں میں دشمن ممالک یا طاقتوں کو علامتی طور پر بعل BAAL یا شیطانی قوت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے لوگ اس کو شیطانی بعل کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔
قدیم دیوتا Baal کو مزاہب میں اکثر باطل یا جھوٹے معبود کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس لیے بعض لوگ اسے شیطان یا برائی کی علامت سمجھتے ہیں۔ جب کہیں بعل کا مجسمہ جلایا جاتا ہے تو اسے علامتی طور پر برائی کے خلاف احتجاج کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
بعض قدیم متون میں یہ الزام ملتا ہے کہ کچھ بت پرست اقوام میں بعل کے لیے بچوں کی قربانی بھی ہوتی تھی۔
شیطانی مجسمے کی حقیقت کھل گئی۔
کراچی پولیس نے مہران ٹاؤن میں سامنے آنے والے تھرماکول سے بنے ایک غیر معمولی شیطانی بعل baal کے مجسمے کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ pic.twitter.com/WnG0XMnmZ1— Urdu Report (@UrduReportpk) March 12, 2026
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مختلف سوشل میڈیا صارفین اس کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے لگے اور مقامی میڈیا میں بھی اس کی خبریں نشر ہونے لگیں۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور مجسمے کو تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔ پولیس حکام کے مطابق یہ مجسمہ فوم یا تھرماپول سے بنایا گیا تھا اور ابتدائی طور پر اس کا مالک معلوم نہیں تھا۔
ایس ایچ او تھانہ کورنگی Nasir Mahmood کے مطابق ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے اس مقام کی تلاش شروع کی۔ افطاری کے وقت دکانیں بند ہونے کے باعث جگہ کا پتہ لگانے میں دشواری ہوئی، تاہم بعد میں دکان کا تالہ کھلوا کر مجسمہ برآمد کر لیا گیا اور دکان کے مالک اور کرایہ دار کا بھی سراغ لگایا گیا۔
پولیس کے مطابق کاریگر سے پوچھ گچھ کے بعد معلوم ہوا کہ مجسمہ ایک مذہبی جماعت کے آرڈر پر بنایا جا رہا تھا جسے Yom al‑Quds کے موقع پر ہونے والی ریلی کے دوران جلانے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ پولیس نے اس جماعت کے رہنماؤں کو بھی طلب کیا ہے تاہم تاحال وہ پیش نہیں ہوئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس معاملے میں کوئی مجرمانہ پہلو سامنے نہیں آیا، تاہم پولیس اس بات کی تصدیق کے لیے متعلقہ افراد سے تحریری بیان لینے کی کوشش کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ کے بعض مظاہروں میں بھی قدیم دیوتا Baal کی شکل کے مجسموں کو علامتی طور پر جلانے کے واقعات سامنے آئے ہیں، اور کراچی میں ملنے والا مجسمہ بھی اسی طرز سے ملتا جلتا بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے


