بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات 2026 کے نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے دو تہائی کی اکثریت سے تاریخی کامیابی حاصل کی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پارٹی سربراہ طارق رحمان بنگلہ دیش کے آئندہ وزیرِاعظم کے مضبوط امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں۔
طارق رحمان کون ہیں؟

طارق رحمان بنگلہ دیش کے پہلے فوجی حکمران ضیا الرحمان اور سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کے بڑے صاحبزادے ہیں۔طارق رحمان کو پرو پاکستانی بھی قرار دیا جا رہا ہے اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کو وہ ٹف ٹائم دیں گے۔
بی این پی کی ویب سائٹ کے مطابق وہ 20 نومبر 1965 کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد ضیا الرحمان ماضی میں پاکستانی فوج میں بھی افسر رہ چکے تھے۔
گرفتاری، جلاوطنی اور لندن میں قیام
سنہ 2007 میں فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے دور میں طارق رحمان کو کرپشن کے الزامات پر گرفتار کیا گیا۔ وہ تقریباً 18 ماہ جیل میں رہے اور ستمبر 2008 میں رہائی کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ لندن منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے تقریباً 17 برس گزارے۔
دسمبر میں وہ طویل جلاوطنی کے بعد ڈھاکہ واپس آئے۔ ان کی واپسی سے چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک مبہم پیغام نے سیاسی حلقوں میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر دی تھی، تاہم ان کی جماعت نے ان کا شاندار استقبال کیا۔
پارٹی قیادت اور انتخابی مہم

والدہ خالدہ ضیا کی وفات کے بعد نو جنوری کو بی این پی کی نیشنل اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں طارق رحمان کو باضابطہ طور پر پارٹی چیئرمین مقرر کیا گیا۔
انہوں نے پہلی بار قومی پارلیمانی انتخابات میں براہِ راست حصہ لیا اور انتخابی مہم کی قیادت بھی کی۔ اس سے قبل 2018 میں خالدہ ضیا کو سزا سنائے جانے کے بعد وہ قائم مقام چیئرمین کے طور پر لندن سے پارٹی معاملات چلاتے رہے تھے۔
کرپشن الزامات اور سیاسی تنازعات
ماضی میں طارق رحمان پر کرپشن اور دیگر مقدمات قائم کیے گئے۔ بی این پی کے مخالفین آج بھی ان کی تعلیمی قابلیت اور ماضی کے مقدمات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

بی این پی کا مؤقف ہے کہ یہ الزامات سیاسی انتقام اور عوامی لیگ کی جانب سے پروپیگنڈا تھے۔
سنہ 2004 میں ڈھاکہ میں اُس وقت کی اپوزیشن لیڈر شیخ حسینہ کے جلسے پر ہونے والے دستی بم حملے کے مقدمے میں بھی ان پر الزامات عائد کیے گئے تھے، تاہم بعد ازاں وہ ان مقدمات سے بری ہو گئے۔ بی این پی ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔
سیاسی منظرنامہ اور دیگر جماعتیں
بی این پی کی دیرینہ حریف عوامی لیگ نے ان انتخابات میں حصہ نہیں لیا کیونکہ موجودہ انتظامیہ نے اس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ایسے میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش ایک اہم سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
ممکنہ وزیرِاعظم؟

ابتدائی نتائج میں بی این پی کی واضح برتری کے بعد طارق رحمان کو بنگلہ دیش کے آئندہ وزیرِاعظم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے حامی انہیں ایک مضبوط اور فیصلہ کن قیادت قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین ماضی کے تنازعات کو یاد دلا رہے ہیں۔
آنے والے دنوں میں حتمی نتائج اور سیاسی جوڑ توڑ یہ طے کرے گا کہ آیا طارق رحمان واقعی وزارتِ عظمیٰ تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔
طارق رحمن کی تعلیمی قابلیت
ان کی پارٹی کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ انھوں نے ابتدائی تعلیم ڈھاکہ کے بی اے ایف شاہین کالج میں مکمل کی اور پھر 1980 کی دہائی میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں داخلہ لیا۔
تاہم اس بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں کہ آیا انھوں نے وہاں اپنی تعلیم مکمل کی یا نہیں۔
بی این پی کی تاریخی کامیابی
بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی نے اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر دو تہائی اکثریت حاصل کرکی۔ بی این پی اتحاد نے 299 میں سے 209 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔
غیرمصدقہ نتائج کے مطابق خالدہ ضیا کے بیٹے اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کی قیادت میں پارٹی 191 نشستیں جیت چکی، جبکہ ان کے اتحاد نے 209 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے
