نیپال کی وزارت عظمیٰ تک کا سفر کامیابی سے طے کرنے والے بلن شاہ کی کہانی حالیہ تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال بن چکی ہے۔
چند سال پہلے جب وہ کھٹمنڈو کے میئر منتخب ہوئے تو یہ سب کے لیے حیران کن تھا، مگر اب وہ نیپال کے وزیراعظم بن چکے ہیں۔
ایک گلوکار اور ریپر سے سیاستدان بننے والے اس نوجوان رہنما بلیندر المعروف بلن شاہ کی کامیابی کو ملک میں بڑی سیاسی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
35 سالہ بلن شاہ کو یہ منصب ان انتخابات کے بعد ملا جو نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں منعقد ہوئے تھے۔ انہوں نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور اپنی جماعت راشٹریہ سوتانترا پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی۔
وزیراعظم کا حلف اٹھانے سے قبل انہوں نے ایک امید افزا گانا بھی جاری کیا، جسے چند گھنٹوں میں لاکھوں افراد نے دیکھا۔ یہ گانا ان کے ماضی کے انقلابی ریپ انداز کی یاد دلاتا ہے، جس میں وہ بدعنوانی اور سماجی مسائل پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔
بلن شاہ کون ہیں؟

بلن شاہ 1990 میں کھٹمنڈو میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سول انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں سٹرکچرل انجینیئرنگ میں ماسٹرز کیا، مگر اصل شہرت انہیں موسیقی کے ذریعے ملی۔ وہ ایک ریپر، گلوکار، شاعر اور میوزک پروڈیوسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
2013 میں ایک بڑے ریپ مقابلے میں کامیابی کے بعد وہ منظرِ عام پر آئے اور ان کے گانوں میں معاشرتی مسائل، بدعنوانی اور عدم مساوات جیسے موضوعات نمایاں رہے۔ ان کا مشہور گانا "بلیدان” بھی اسی سلسلے کی ایک مثال ہے۔
سیاست میں داخلہ اور کامیابی
بلن شاہ نے باقاعدہ سیاسی سفر کا آغاز 2022 کے بلدیاتی انتخابات سے کیا، جب انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر میئر کا الیکشن جیتا۔ میئر کے طور پر ان کی کارکردگی میں شہر کی صفائی، تاریخی ورثے کا تحفظ اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات شامل تھے۔
تاہم، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ان کی مہم متنازع بھی رہی، جس پر انہیں غریب طبقے اور حقوقِ انسانی کے کارکنوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اقتدار تک کا سفر
نوجوانوں کی تحریک اور عوامی غصے نے ان کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔ احتجاج کے دوران ان کا گانا "نیپال ہاسیکو” عوامی ترانے کے طور پر ابھرا۔
بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی انتخابی مہم چلائی، جس میں بدعنوانی کے خاتمے، عدالتی اصلاحات اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے وعدے کیے گئے۔
انتخابات میں انہوں نے سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کو بھی شکست دی، جو ایک بڑی سیاسی پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔
چیلنجز اور تنازعات
اگرچہ بلن شاہ کو تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے، لیکن ان کے سامنے کئی چیلنجز موجود ہیں۔ ان میں معاشی سست روی، بے روزگاری، اور حکومتی تجربے کی کمی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی حقوق کے معاملات اور سوشل میڈیا پر ان کے بعض بیانات بھی تنازع کا باعث بنے ہیں۔
اب بطور وزیراعظم ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے وعدے پورے کریں گے بلکہ ایک مضبوط اور شفاف نظام حکومت بھی قائم کریں گے
یہ بھی پڑھئِے


