عالمی ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں حالیہ شدید مندی آئی ہے جس بعد پاکستان میں بھی اس شعبے کے مستقبل پر بحث جاری ہے۔
بڑی ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جا رہی ہے اور مالیاتی حلقے اسے ایک اہم معاشی اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اتار چڑھاؤ
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، فروری 2026 میں بٹ کوائن کی قیمت اکتوبر 2025 کے ریکارڈ ہائی تقریباً 126 ہزار ڈالر سے گر کر ابتدائی طور پر 60 ہزار ڈالر کے قریب پہنچ گئی تھی (تقریباً 50 فیصد سے زیادہ کمی)، لیکن اب یہ دوبارہ بحال ہو کر تقریباً 68 ہزار سے 70 ہزار ڈالر کے درمیان ٹریڈ ہو رہی ہے۔
پوری کرپٹو مارکیٹ کی ویلیو تقریباً 2.3 ٹریلین سے 2.6 ٹریلین ڈالر کے آس پاس ہے، جس میں اربوں ڈالر کا لیکویڈیشن ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس گراوٹ کی مختلف وجوہات شامل ہیں۔
واضح رہے کہ یہ اثرات دنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں لاکھوں نوجوان اور سرمایہ کار ڈیجیٹل کرنسی کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں۔
عالمی ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں شدید مندی کے اسباب
اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات میں سے ایک بٹ کوائن کا 4 سالہ چکر ہے، جس میں 2024 میں ہونے والے ہاؤنگ کے بعد تاریخی طور پر قیمتوں میں کمی کی ایک مدت آتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ دور اسی بیئر فیز کا حصہ ہے، جہاں مارکیٹ میں شدید دباؤ اور قیمتوں کی اصلاح دیکھی جا رہی ہے۔
دوسری اہم وجہ عالمی معاشی عوامل ہیں، جیسے شرح سود کی توقعات، امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیاں، اور مہنگائی کے اعداد و شمار سے پیدا ہونے والا مارکیٹ میں بحالی کا رجحان۔
یہ بھی پڑھئِے


