• Home  
  • ہائی کورٹ نے چکوال میں کروڑوں کی جائیداد کے مالک بہن بھائی کو قید کرنے والے مرکزی ملزم کو بری کر دیا
- پاکستان

ہائی کورٹ نے چکوال میں کروڑوں کی جائیداد کے مالک بہن بھائی کو قید کرنے والے مرکزی ملزم کو بری کر دیا

پنجاب کے ضلع چکوال میں کروڑوں روپے کی جائیداد ہتھیانے کے لیے بہن بھائی کو اغوا کرنے اور حبس بے میں رکھنے کے کیس میں ملزم کو بری کر دیا گیا۔ ۔ لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے مرکزی ملزم عنصر عباس […]

پنجاب کے ضلع چکوال میں کروڑوں روپے کی جائیداد ہتھیانے کے لیے بہن بھائی کو اغوا کرنے اور حبس بے میں رکھنے کے کیس میں ملزم کو بری کر دیا گیا۔

۔ لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے مرکزی ملزم عنصر عباس کو بری کر دیا۔عدالت کے جج صداقت علی خان نے ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمے میں ٹھوس شواہد موجود نہیں، اس لیے سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال چکوال کے گاؤں گھگھ میں تھانہ نیکی کی حدود میں ایک گمنام خط کی بنیاد پر پولیس نے ایک گھر پر چھاپہ مارا تھا جہاں سے 26 سالہ جبین بی بی کی لاش برآمد ہوئی جبکہ ان کے بھائی حسن رضا کو انتہائی کمزور حالت میں بازیاب کرایا گیا تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں بہن بھائی کو کروڑوں روپے کی جائیداد ہتھیانے کے لیے مبینہ طور پر ایک کمرے میں بند رکھا گیا تھا اور انہیں مناسب خوراک بھی فراہم نہیں کی جا رہی تھی۔

اس کیس میں ٹرائل کورٹ نے عنصر عباس کو تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی، تاہم اب لاہور ہائی کورٹ نے شواہد ناکافی قرار دیتے ہوئے ملزم کو بری کر دیا ہے۔

ٹرائل۔کورٹ نے کا حکممرکزی ملزم عنصر عباس کو 3 سال 3 ماہ قید ، 50 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔

چکوال میں 955 کنال کے اکیلے وارث حسن رضا اور جبین بی بی کو حویلی میں بھوکا قید میں رکھا گیا۔جس کو گمنام خط کے مطابق گاؤں کی ایک خاتون کبھی کبھار کھانا دے جاتی۔

واقعے کے مطابق حسن رضا اور اس کی بہن جبین بی بی کروڑوں روپے مالیت زمین کے اکیلے وارث تھے، زمین ہتھیانے کے لیے چچا زاد نے دونوں کو حویلی میں غیر قانونی طور پر قید کیا اور اس دوران گریجویٹ جبین بی بی کی موت بھائی کے سامنے بھوک کی وجہ سے ہوئی۔

مرکزی ملزم۔عنصر عباس کو دی۔جانے والی سزا کو اب لاھور ہائی کورٹ نے ختم۔کر دیا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں