اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستانی اداکارہ دانانیر مبین نئے ڈرامے حرمت میں اپنے کردار پر مداحوں کی جانب سے ملنے والے بھرپور ردعمل سے متاثر ہوئی ہیں، تاہم اس پذیرائی نے ان کے اندر خوشی کے ساتھ ساتھ اداسی کے جذبات بھی پیدا کیے ہیں۔
اداکارہ نے منگل کو انسٹاگرام پر جاری کی گئی ایک اسٹوری میں ناظرین کا کردار کو پسند کرنے پر شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی ایک مداح کے تبصرے کا ذکر کیا جس نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا۔
مداح کا تبصرہ جس نے دانانیر کو سوچنے پر مجبور کیا
دانانیر مبین نے بتایا کہ ناظرین کی رائے دیکھتے ہوئے انہیں ایک مداح کا تبصرہ نظر آیا جس میں لکھا تھا، ’’ہمارے والد نے ہماری کھڑکیوں پر پینٹ کر دیا تھا تاکہ ہم باہر نہ دیکھ سکیں۔‘‘
اداکارہ کے مطابق یہ تبصرہ انہیں ایک ایسی کیفیت میں لے گیا جہاں وہ بیک وقت خوش بھی تھیں اور اداس بھی۔ انہیں خوشی تھی کہ ناظرین ان کے کردار سے جڑ رہے ہیں، لیکن اس بات نے انہیں پریشان کیا کہ اس تعلق کی وجہ معاشرے میں خواتین کو درپیش پابندیاں ہیں۔
انہوں نے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ ناظرین کردار سے جڑ رہے ہیں، لیکن وہ اس وجہ سے بہت اداس بھی ہیں جس کے باعث انہیں اپنے کردار میں اپنی زندگی یا حالات کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔
حرمت میں دانانیر مبین کا کردار
ڈرامہ حرمت میں دانانیر مبین ایک ایسی نوجوان لڑکی کا کردار ادا کر رہی ہیں جو اپنے انتہائی قدامت پسند اور سخت گیر والد کے آمرانہ رویے کے تحت زندگی گزارتی ہے۔
ڈرامے میں والد اپنی بیٹی کی زندگی کے تقریباً ہر معاملے پر فیصلہ مسلط کرتا ہے، جس کے باعث حرمت اپنی مرضی سے تعلیم اور دیگر ذاتی معاملات کے فیصلے کرنے سے محروم رہتی ہے۔
خواتین کو درپیش پابندیوں کی عکاسی
ڈرامے کی ابتدائی دو اقساط میں یہ دکھایا گیا ہے کہ خواتین کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی اجازت نہ ملنے سے انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حرمت اچھے نمبروں سے کامیاب ہونے کے باوجود یونیورسٹی جانے سے محروم رہتی ہے، کیونکہ اس کے والد خواتین کے بلا ضرورت گھر سے باہر جانے کو مناسب نہیں سمجھتے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں حرمت خود کو بے بس محسوس کرتی ہے اور اس میں خود اعتمادی کی شدید کمی پیدا ہو جاتی ہے۔
مداحوں کا ردعمل اور اداکارہ کے جذبات
دانانیر مبین کے مطابق کسی ڈرامے کے کردار کا ناظرین پر اس قدر ذاتی نوعیت کا اثر ڈالنا روزمرہ کی بات نہیں۔ ان کے لیے حرمت کا تجربہ مداحوں کی محبت اور پذیرائی کے ساتھ ساتھ غور و فکر کا باعث بھی بنا ہے۔
ڈرامہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بعض اوقات ٹیلی وژن پر پیش کی جانے والی کہانیاں ناظرین کی ذاتی زندگی اور تجربات سے اس قدر قریب ہوتی ہیں کہ وہ گہرے جذبات کو ابھار دیتی ہیں۔
مزید پڑھئِں
"میں بل گیٹس کی بیٹی ہوں” نازش جہانگیر کی میڈیا پر تنقید – urdureport.com
’اے آئی سے تبدیل شدہ ویڈیو جنسی ہراسانی کے قریب ہے‘، جھانوی کپور – urdureport.com


