اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر معروف شخصیت اداکار حمزہ علی عباسی کی بڑی بہن ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف ڈھائی ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں دائر مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد، ان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین نے کی، جہاں ملزمہ کی جانب سے دائر تین مختلف درخواستوں پر فیصلہ سنایا گیا۔
Imran Niazi ki new silai machine ?
Hamza Ali Abbasi’s(Youthia) sister, Dr. Fazeela Abbasi, has been exposed in a major money laundering case.
FBR records show her declared annual income is only 4-5 lakh rupees, yet her multiple accounts have transactions worth nearly 25 arab… pic.twitter.com/ymFpCGuzFm
— The Balochistan Diaries (TBD) (@BalochDiaries) March 26, 2026
ڈاکٹر فضیلہ عباسی ایک معروف ڈرماٹالوجسٹ ہیں اور حمزہ علی عباسی کی بڑی بہن ہیں۔ وہ 2003 سے شعبہ امراضِ جلد میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور انہوں نے کنگز کالج لندن کے سینٹ جانز انسٹی ٹیوٹ آف ڈرماٹولوجی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
ان کے کلینکس اسلام آباد، دبئی اور لندن میں موجود ہیں، اور وہ اکثر ٹی وی پروگرامز میں بھی نظر آتی ہیں۔ کاسمیٹک طریقۂ علاج سے متعلق ان کا کام انہیں خبروں میں رکھتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی وہ ایک معروف نام ہیں۔
عدالت نے ہدایت دی کہ فارن ایکسچینج قوانین کے تحت تحقیقات جاری رکھی جائیں، تاہم اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت درج مقدمے اور انکوائری کو غیرقانونی قرار دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی اے نے بعض معاملات میں قانونی طریقہ کار کی مکمل پیروی نہیں کی اور اختیارات سے تجاوز کیا۔
تحقیقات کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے 22 بینک اکاؤنٹس میں تقریباً ڈھائی ارب روپے کا ٹرن اوور سامنے آیا، جبکہ ان کی ظاہر کردہ سالانہ آمدن اس سے کہیں کم تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ مزید شواہد بھی سامنے آئے ہیں اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس میں دیگر افراد بھی ملوث ہیں یا نہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ حوالہ ہنڈی اور مشکوک مالی لین دین کے ابتدائی شواہد موجود ہیں، اور ضرورت پڑنے پر اکاؤنٹس کو ڈی فریز کرنے یا برقرار رکھنے کا اختیار تحقیقاتی ادارے کے پاس ہوگا۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر الزامات ثابت نہ ہوں تو اکاؤنٹس فوری طور پر بحال کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھئیے


