متحدہ عرب امارات میں متعدد افراد کو، جن میں سیاح اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز شامل ہیں، ایران پر مبینہ حملوں یا اس سے ہونے والے نقصانات سے متعلق مواد رکھنے، شیئر کرنے یا اس پر تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قوانین کے تحت نہ صرف اصل مواد پوسٹ کرنے والے بلکہ اسے دوبارہ شیئر کرنے یا تبصرہ کرنے والے بھی مجرم قرار دیے جا سکتے ہیں۔
اس قوانین کی خلاف ورزی پر سزا میں دو سال تک قید، 5,500 سے 55,000 ڈالر تک جرمانہ، اور غیر ملکی شہریوں کے لیے ملک بدری شامل ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ غیر ملکیوں کو سمجھنا چاہیے کہ کچھ سرگرمیاں، جو دیگر ممالک میں معمول ہیں، امارات میں گرفتاری کا سبب بن سکتی ہیں۔
ایک حالیہ کیس میں 60 سالہ برطانوی سیاح پر الزام ہے کہ اس نے شہر میں ایرانی میزائلوں کی ویڈیو بنائی۔ برطانیہ کی وزارت خارجہ اس معاملے میں مقامی حکام سے رابطے میں ہے۔
اماراتی حکام کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے 1,800 ڈرونز اور میزائل امارات کی طرف فائر کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور امارات کے 6 افراد ہلاک اور 141 زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھئِے


