اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • الیکٹرک گاڑی میں متلی کیوں ہوتی ہے؟ ماہرین نے ممکنہ وجوہات بتادیں
- صحت و تندرستی

الیکٹرک گاڑی میں متلی کیوں ہوتی ہے؟ ماہرین نے ممکنہ وجوہات بتادیں

کچھ افراد کو برقی گاڑی میں سفر کے دوران متلی، چکر اور پسینے کی شکایت ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کم شور، ری جنریٹو بریکنگ اور اچانک رفتار میں تبدیلی اس کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں۔

اردو رپورٹ ڈیسک

دنیا بھر میں برقی گاڑیوں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، تاہم بعض مسافروں کے لیے ان میں سفر کے دوران متلی، چکر، پسینہ آنے اور موشن سکنس کی دیگر علامات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ہر شخص کو یہ مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔ بعض افراد برقی گاڑی میں روایتی گاڑی کے مقابلے میں کم موشن سکنس محسوس کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگوں میں اس کی علامات زیادہ نمایاں یا شدید ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اس لیے یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ برقی گاڑیاں لازماً موشن سکنس کا سبب بنتی ہیں۔ تاہم، کچھ ممکنہ عوامل اس کیفیت کی وضاحت میں مدد دے سکتے ہیں۔

جسم کو ملنے والے متضاد اشارے

ماہرین کے مطابق موشن سکنس اس وقت پیدا ہوسکتی ہے جب جسم کو حرکت کے بارے میں مختلف حسی نظاموں سے متضاد اشارے ملیں۔

حرکت محسوس کرنے میں بنیادی طور پر آنکھیں، اندرونی کان میں موجود توازن کا نظام اور جسم کے مختلف حصوں سے ملنے والے حسی اشارے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مثلاً گاڑی چل رہی ہو لیکن مسافر موبائل فون کی اسکرین دیکھ رہا ہو تو آنکھیں اس حرکت کو محسوس نہیں کرتیں جو جسم اور اندرونی کان محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ تضاد بعض افراد میں متلی اور چکر کا باعث بن سکتا ہے۔

برقی گاڑی میں مسئلہ زیادہ کیوں محسوس ہوسکتا ہے؟

برقی گاڑیاں عام طور پر روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں کم انجن شور اور کم ارتعاش پیدا کرتی ہیں۔ انسان طویل عرصے سے گاڑی کی حرکت کو اس کی آواز اور ارتعاش کے ساتھ محسوس کرنے کا عادی ہے۔

برقی گاڑی میں یہ اشارے کم ہونے کی وجہ سے آنکھوں، اندرونی کان اور جسم سے ملنے والے اشاروں میں فرق پیدا ہوسکتا ہے، جو بعض مسافروں میں موشن سکنس کا باعث بن سکتا ہے۔

ری جنریٹو بریکنگ بھی ایک ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔ ڈرائیور کے ایکسیلیٹر سے پاؤں ہٹانے پر گاڑی کی موٹر جنریٹر کے طور پر کام کرسکتی ہے، جس سے گاڑی کی رفتار کم ہوتی ہے اور توانائی بیٹری میں واپس ذخیرہ ہوتی ہے۔

اگر گاڑی اچانک رفتار کم کرے تو مسافر کو ہلکے سے آگے اور پیچھے جھولنے جیسا احساس ہوسکتا ہے، جو بعض افراد میں متلی کی کیفیت بڑھا سکتا ہے۔

اچانک رفتار میں تبدیلی بھی اثرانداز ہوسکتی ہے

برقی گاڑیاں روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں نسبتاً تیزی سے رفتار پکڑنے اور کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اچانک تیز رفتاری یا رفتار میں تبدیلی حرکت کے لیے حساس افراد میں موشن سکنس بڑھا سکتی ہے۔

تاہم، ماہرین کے مطابق گاڑی چلانے کا انداز بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور ضروری نہیں کہ ہر صورت میں اس کی وجہ خود برقی گاڑی ہو۔

خواتین اور بچوں میں امکان زیادہ

کچھ افراد فطری طور پر موشن سکنس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں اور اس میں جینیاتی عوامل بھی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق خواتین اور بچوں میں اس کیفیت کا امکان نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ بچوں میں موشن سکنس عموماً 8 سے 10 سال کی عمر کے درمیان زیادہ دیکھی جاتی ہے، جس کے بعد وقت اور سفر کے تجربے کے ساتھ اس میں کمی آسکتی ہے۔

تاہم، برقی گاڑی میں سفر کرنے والے ہر فرد کو یہ مسئلہ نہیں ہوتا۔ بہت سے مسافر بالکل معمول کے مطابق سفر کرتے ہیں، جبکہ بعض افراد کو روایتی گاڑی کے مقابلے میں برقی گاڑی میں کم علامات محسوس ہوتی ہیں۔

متلی سے بچنے کے آسان طریقے

سفر کے دوران موشن سکنس کی شدت کم کرنے کے لیے مسافر گاڑی کی سمت میں سامنے دیکھیں اور موبائل فون استعمال کرنے یا کتاب پڑھنے سے گریز کریں۔

ممکن ہو تو اگلی نشست پر بیٹھیں۔ اگر پچھلی نشست پر بیٹھنا ضروری ہو تو درمیان والی نشست بہتر ہوسکتی ہے، جہاں سے سامنے کا راستہ واضح نظر آتا رہے۔

سر کو زیادہ حرکت دینے سے گریز کریں اور ممکن ہو تو اسے نشست کے ہیڈ ریسٹ سے ٹکا کر رکھیں۔ کھڑکی کھول کر تازہ ہوا لینا اور پرسکون انداز میں سانس لینا بھی بعض افراد کے لیے مددگار ہوسکتا ہے۔

طویل سفر سے پہلے مناسب نیند لیں، جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں اور بہت زیادہ چکنائی والی غذا سے گریز کریں۔

ضرورت پڑنے پر موشن سکنس کی ادویات بھی استعمال کی جاسکتی ہیں، تاہم بعض ادویات غنودگی کا باعث بن سکتی ہیں، اس لیے ان کے استعمال سے قبل ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

کیا جسم وقت کے ساتھ عادی ہوجاتا ہے؟

ماہرین کے مطابق بعض افراد میں بار بار سفر کرنے سے موشن سکنس کی شدت کم ہوسکتی ہے کیونکہ جسم بتدریج حرکت کے نئے انداز سے مطابقت پیدا کرلیتا ہے۔

اس لیے اگر کسی شخص کو برقی گاڑی میں ابتدا میں متلی محسوس ہوتی ہے تو ضروری نہیں کہ یہ مسئلہ ہمیشہ برقرار رہے۔ وقت کے ساتھ جسم نئے سفر کے تجربے کا عادی ہوسکتا ہے۔

مستقبل کی گاڑیوں میں ممکنہ تبدیلیاں

ماہرین کے مطابق مستقبل میں برقی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں ایسی تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں جو مسافروں میں موشن سکنس کے امکان کو کم کریں۔

ممکنہ اقدامات میں سافٹ ویئر کے ذریعے اچانک تیز رفتاری کو ہموار کرنا، گاڑی کی حرکت کے بارے میں آواز یا نشست کی معمولی ارتعاش کے ذریعے مسافر کو اشارہ دینا اور ری جنریٹو بریکنگ کو اس انداز میں ترتیب دینا شامل ہے کہ گاڑی اچانک رفتار کم نہ کرے۔

بعض برقی گاڑیوں میں ری جنریٹو بریکنگ کو بند کرنے یا اس کی شدت تبدیل کرنے کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔

مزید تحقیق کی ضرورت

ماہرین کے مطابق برقی گاڑیوں اور موشن سکنس کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

دستیاب شواہد ابھی اتنے وسیع نہیں کہ حتمی طور پر کہا جاسکے کہ برقی گاڑیاں روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ موشن سکنس کا باعث بنتی ہیں۔ اس کا تجربہ ہر شخص میں مختلف ہوسکتا ہے اور گاڑی چلانے کا انداز اور حرکت کے لیے حساسیت بھی اس پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!