مذہبی سکالر انجینیئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار 26 سالہ ملزم کے خلاف اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس نے یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324 (اقدام قتل) کے تحت درج کی ہے۔
مذکورہ شخص نے فوٹو سیشن کے دوران محمد علی مرزا کے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش ظاہر کی اور ایک شخص کو اپنا موبائل فون پکڑا کر کہا کہ ‘میری انجینیئر صاحب کے ساتھ تصویر بنا دو تاکہ یادگار رہے۔’
انجینیئر محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملے کا مقدمہ اُن کی اکیڈمی ’قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی‘ کے کور کمیٹی کے ایک رکن کی مدعیت میں تھانے میں درج کروایا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اتوار کے روز لیکچر کے اختتام پر فوٹو سیشن کے دوران ایبٹ آباد سے تعلق کے ایک رہائشی نے انجینیئر محمد علی مرزا پر حملہ کردیا اور اسی دوران اُن کی پگڑی کو زمین پر پٹخ دیا اور اُن کے گلے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دبوچ کر اُن کا سانس روکنے کی کوشش کی۔
جہلم کے تھانہ سٹی میں ایف آئی آر کے مطابق خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ملزم نے بلند آواز میں نعرے بازی کی اور مذہبی کو سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے نعرے لگائے۔
تاہم ابھی تک ٹی ایل پی نے اس معاملے پر تاحال کوئی ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر موجود افراد نے ملزم کو پکڑا اور انھیں اکیڈمی کی ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کے حوالے کیا ہے۔
جہلم پولیس کے مطابق انجینیئر محمد علی مرزا پر مارچ 2021 میں بھی چاقو سے حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اُن کے بازو پر زخم آیا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال انجینیئر محمد علی مرزا کو مبینہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم دسمبر 2025
میں انھیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئیے


