اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • وفاقی حکومت کے ممکنہ اقدامات، پی ٹی آئی قیادت کی گرفتاریوں کی تیاریاں، ذرائع
- دنیا

وفاقی حکومت کے ممکنہ اقدامات، پی ٹی آئی قیادت کی گرفتاریوں کی تیاریاں، ذرائع

وفاقی حکومت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف ممکنہ کارروائی کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کی گرفتاریوں یا نظر بندی پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف 10 اکتوبر کو اہم مشاورت کریں گے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

وفاقی حکومت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے طرزِ عمل میں تبدیلی نہ آنے کی صورت میں ان کے خلاف ممکنہ کارروائی کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف 10 اکتوبر 2026 کو اپنے رفقا سے اس حکمت عملی پر مشاورت کریں گے۔ وفاقی حکومت کی مشاورت اور بریفنگ کے بعد اہم فیصلے متوقع ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی قیادت کو گرفتار یا نظر بند کرنے کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔

خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت یا گورنر راج کا امکان

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرنے یا گورنر راج لگانے کی صورت میں سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

صوبے میں پولیس اور انتظامی افسران کو متحرک کرنے کی حکمت عملی بھی تیار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ احتجاج میں شرکت کے لیے باہر نکلنے والے افراد کی گرفتاریوں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مظاہروں کا دائرہ محدود رکھنے کے لیے صوبائی انتظامیہ کو خصوصی ہدایات بھی دی جا سکتی ہیں۔ تاہم ان ممکنہ اقدامات اور فیصلوں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔

مولانا فضل الرحمان کا ہنگامی حالت اور گورنر راج سے گریز کا مشورہ

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ رات مشاورتی اجلاس کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرنے یا گورنر راج لگانے سے گریز کا مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے حکمران جماعتوں کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ مولانا فضل الرحمان نے معاملات افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعظم

گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی بصیرت اور احتجاجی تحریک سے دور رہنے کے فیصلے کو سراہا۔

وزیراعظم نے مبینہ طور پر کہا کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی مخلصانہ کوششیں کیں، تاہم خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں تعاون سے انکار مذاکرات کی ناکامی کا سبب بنا۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور اس معاملے میں غفلت بھی قابل قبول نہیں۔

مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کی تجویز

مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی پر زور دیا کہ حالات بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کو ایک اور موقع دیا جائے۔

اس پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت اب بھی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے حق میں ہے، تاہم اسلام آباد پر چڑھائی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

وزیراعظم نے پی ٹی آئی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی میز پر واپس آئے تاکہ زیرِ التوا معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!