اردو رپورٹ ڈیسک
فرانس میں حکومت مخالف مظاہرے پُرتشدد صورت اختیار کر گئے، مختلف شہروں میں سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی اور کاروباری مراکز میں توڑ پھوڑ کی گئی، جبکہ پولیس نے ملک بھر سے 1200 افراد کو حراست میں لے لیا۔ مظاہروں کے دوران پولیس اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہفتے کی رات فرانس کے متعدد بڑے شہروں میں حالات کشیدہ ہو گئے، جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھیوں کا استعمال کیا۔
تاریخی عمارتیں اور کاروباری مراکز نشانہ بن گئے
وسطی فرانس کے شہر لیموژ میں تاریخی سٹی ہال کو آگ لگا دی گئی، جس کے نتیجے میں عمارت کی چھت گرنے کے مناظر بھی سامنے آئے۔ شہر مارسیلے میں سیاہ لباس پہنے مظاہرین سٹی ہال میں داخل ہوئے اور عمارت کو نقصان پہنچایا، جبکہ لیون میں سیاحوں کے ایک دفتر کو آگ لگا دی گئی۔
دارالحکومت پیرس میں رات کے وقت بعض نوجوانوں نے دکانوں میں لوٹ مار کی اور مختلف مقامات پر آگ لگا دی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھیوں کا استعمال کیا۔
حکومت اور صدر کی جانب سے تشدد کی مذمت
فرانس کے وزیراعظم سیباستیان لیکورنو نے بتایا کہ ملک بھر میں مظاہروں کے دوران 1200 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا۔
صدر ایمانوئل میکرون نے بھی پُرامن مظاہروں میں خلل ڈالنے اور تشدد کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ہفتے کی رات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے خبردار کیا کہ سرکاری دفاتر، کاروباری مراکز اور سٹی ہالز پر حملوں یا لوٹ مار میں ملوث افراد کو قانونی کارروائی اور سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پیرس پولیس پری فیکچر نے بھی کہا کہ پولیس اہلکار فسادیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرنے والوں کے سامنے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ادارے نے اپنے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور حوصلے کو سراہا۔
ساڑھے پانچ لاکھ افراد کے احتجاج کا دعویٰ
فرانسیسی حکام کے مطابق ہفتے کے روز ملک بھر میں تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ افراد نے احتجاج کیا، جن میں ایک لاکھ 10 ہزار افراد دارالحکومت پیرس میں موجود تھے۔ تاہم مظاہروں کے منتظمین کا کہنا تھا کہ شرکا کی تعداد سرکاری اعدادوشمار سے زیادہ تھی۔
مظاہرے ابتدا میں زیادہ تر پُرامن رہے، تاہم بعد میں مختلف مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے۔ حکام کے مطابق مظاہرین کی بھاری اکثریت نے پُرامن انداز میں احتجاج کیا۔
بائیں بازو کی جماعت لا فرانس انسومیز کے رہنما ژاں لوک میلانشوں نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ ذرائع ابلاغ درجنوں شہروں میں تشدد کے مناظر دکھا رہے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد پُرسکون انداز میں اپنے مطالبات پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ دو مختلف حقیقتیں ہیں۔
مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف غصہ
فرانس میں حالیہ مظاہروں کا آغاز گزشتہ ماہ طلبہ کی تحریک سے ہوا تھا، تاہم اب یہ حکومت کی پالیسیوں، تعلیمی اداروں کی خراب صورت حال، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوامی مسائل حل نہ ہونے کے خلاف وسیع احتجاجی تحریک بن چکی ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومتیں عوامی مطالبات پر مناسب توجہ نہیں دے رہیں، جس کے باعث نوجوانوں سمیت معاشرے کے مختلف طبقات میں غصہ بڑھ رہا ہے۔
پیرس میں احتجاج کرنے والی 36 سالہ خاتون پولین نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دولت اور طاقت چند ہاتھوں میں جمع ہوتی جا رہی ہے اور صورت حال قابو سے باہر ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ نوجوانوں کی حمایت کے لیے بھی مظاہرے میں شریک ہوئی ہیں۔ اگرچہ کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، لیکن مجموعی طور پر ملک درست سمت میں آگے نہیں بڑھ رہا۔
ایک اور مظاہرہ کرنے والی 38 سالہ خاتون لوئیز نے صدر ایمانوئل میکرون کی قیادت میں جمہوریت کمزور ہونے اور اختیارات ایک جگہ جمع ہونے پر اعتراض کیا۔ ان کے مطابق ارب پتی افراد ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کر رہے ہیں اور مظاہرین حالات میں تبدیلی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
پولیس کارروائیوں پر بھی سوالات اٹھ گئے
مظاہروں کے دوران پولیس کے طرزِ عمل پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق رواں ہفتے پولیس کارروائی کے دوران ایک 14 سالہ لڑکے کا جبڑا ٹوٹ گیا تھا۔
شمال مغربی شہر النکوں میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر پولیس اہلکار کو ایک لڑکی کی گردن اپنے بازو میں جکڑتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ طریقہ فرانس میں قانون کے تحت ممنوع قرار دیا جا چکا ہے۔
ہفتے کے روز لیون سے تقریباً 40 میل جنوب مغرب میں واقع شہر سینٹ ایٹین میں ایک مظاہرین کا ہاتھ ضائع ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ سی این این کے ذیلی ادارے بی ایف ایم ٹی وی نے پولیس ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی۔
طلبہ کی موجودہ احتجاجی تحریک کے دوران کسی مظاہرین کا ہاتھ ضائع ہونے کا یہ دوسرا رپورٹ ہونے والا واقعہ ہے۔ اس سے قبل شمال مشرقی شہر لینس میں ایک طالب علم کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ دستی بم اٹھانے کے بعد اس کا ہاتھ ضائع ہو گیا۔
اس واقعے کے بعد پولیس نے ایک قسم کے اسٹن گرینیڈ کے استعمال پر عارضی پابندی عائد کی تھی، تاہم بعد میں یہ پابندی ختم کر دی گئی۔ پولیس کو دیگر اقسام کے گرینیڈ استعمال کرنے کی اجازت برقرار رہی۔
تعلیمی نظام میں اصلاحات بھی اہم مطالبہ
فرانس میں طلبہ کے احتجاج کا ایک اہم مقصد تعلیمی نظام میں بہتری لانا ہے۔ رواں موسمِ خزاں میں ہائی اسکول کے طلبہ نے مختلف مقامات پر مظاہرے کرتے ہوئے کلاسوں میں طلبہ کی تعداد کم کرنے، اساتذہ پر اخراجات بڑھانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات برداشت کرنے کے قابل تعلیمی عمارتیں تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
طلبہ نے نوجوانوں کے خلاف پولیس تشدد ختم کرنے پر بھی زور دیا۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران شرح پیدائش میں اضافے اور تعلیمی بجٹ میں کٹوتیوں کے باعث طلبہ کی تعداد بڑھی، لیکن کلاس رومز میں اساتذہ کی تعداد کم ہو گئی۔
فرانس کے وزیر تعلیم ایڈوار گیفرے نے حالیہ ہفتوں میں طلبہ کے نمائندوں سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں، تاہم اب تک کسی معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
فرانس سے باہر بھی احتجاج
فرانس میں جاری احتجاجی تحریک سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بیلجیئم، البانیہ اور اٹلی میں بھی نوجوانوں نے مظاہرے کیے۔
فرانس میں متعدد شہروں میں تشدد کے واقعات کے باوجود حکام اور سیاسی رہنماؤں نے تسلیم کیا کہ مظاہرین کی اکثریت نے حکومت کی پالیسیوں، عوامی خدمات اور ملک کی مجموعی صورت حال کے خلاف پُرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کیے۔

