اردو رپورٹ ڈیسک
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کو لانگ مارچ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات اہم موڑ پر آ گئے ہیں جہاں کامیابی کا عندیہ دیا جا رہا ہے تاہم علامہ ناصر عباس نے محمود اچکزئی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں پیشرفت سے آگاہ کیا، محمود اچکزئی نے عمران خان سے ملاقات کے بعد لانگ مارچ ملتوی یا معاہدہ کرنے کی ہدایت کر دی۔
ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے علامہ ناصر کو ہدایت کی کہ کسی بھی رہنماکی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد پیش رفت کی جائے،اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹا جائے،علامہ ناصر،اسدقیصر ، بیرسٹر گوہر سمیت کسی کی بھی بانی سے ملاقات کرائی جائے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے نمائندوں کی جانب سے کچھ دیر بعد مشترکہ پریس کانفرنس متوقع ہے۔
مذاکرات میں اہم پیش رفت
ذرائع کے مطابق حکومت نے تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات کے مطالبے کو قبول کرنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ اس کے بدلے پی ٹی آئی نے لانگ مارچ ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں آپریشن کی حمایت کرے گی، جبکہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔
پی ٹی آئی کے مطالبات
مذاکرات کے دوران تحریک انصاف کے وفد نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے سیاسی گنجائش فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ بھی دہرایا۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی وفد نے خیبرپختونخوا حکومت کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات پر زور دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ایسا کوئی اقدام نہیں ہونا چاہیے جس سے کشیدگی اور اختلافات میں مزید اضافہ ہو۔
حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی سہولت یا رعایت کے لیے پہلے لانگ مارچ ختم کرنا ہوگا۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ حالات میں احتجاج یا دھرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
پی ٹی آئی کے بعض مطالبات تسلیم کرنے کا عندیہ
ذرائع کے مطابق حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ اگر تحریک انصاف باضابطہ طور پر لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کرتی ہے تو اس کے بعض بنیادی مطالبات پر غور کیا جاسکتا ہے۔
مذاکرات کا دوسرا دور
یہ پیش رفت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور میں سامنے آئی ہے۔ ایک روز قبل ہونے والے پہلے دور میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوسکی تھی، جس کے بعد آج دوبارہ مذاکرات کا اعلان کیا گیا۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کا اجلاس خوشگوار ماحول میں ہوا تھا اور امید ہے کہ آج بھی تمام فریقین اسی ماحول میں مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے۔
سردار ایاز صادق نے حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے اراکین کا مذاکرات میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
مذاکرات میں شریک رہنما
حکومت کی جانب سے وفاقی وزراء امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن رضا نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری نے مذاکرات میں شرکت کی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی نے کی۔
اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، اسد قیصر، حلیم عادل شیخ اور سلمان اکرم راجہ مذاکرات میں شریک ہوئے۔
پی ٹی آئی کا مثبت مذاکرات پر زور
مذاکرات میں شرکت کے لیے پہنچنے پر جنید اکبر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف میں تمام لوگ مثبت مذاکرات کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پارٹی میں کوئی مذاکرات کے خلاف ہے۔
جنید اکبر نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل مثبت اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جانا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے بھی مذاکرات کے لیے پہنچنے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیانات پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وزراء کے بیانات سے مایوسی ہوئی ہے اور خواجہ آصف کو اپنے بیانات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات ناکام نہیں ہوں گے اور یہ عمل ملک، قوم اور جمہوریت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات صوبائی خودمختاری اور مضبوط اختیار کے لیے بھی ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ مذاکرات کا دوسرا دور نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔


