حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہفتے کی شب ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، جس کے بعد فریقین کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ آج اتوار 4 اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہوگا۔
سہیل آفریدی کے مطابق لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ دوپہر ایک بجے لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوگا۔ مختلف اضلاع سے کارکنان مرحلہ وار قافلے میں شامل ہوں گے اور مارچ 8 اکتوبر کو خیرآباد پہنچے گا۔
لانگ مارچ کا شیڈول
سہیل آفریدی کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے شیڈول کے مطابق 4 اکتوبر کو ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت سے تعلق رکھنے والے افراد مارچ میں شامل ہوں گے۔ قافلہ رات کو کرک کے قریب قیام کرے گا۔
5 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کرک کے مقامی افراد مارچ میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ ساڑھے 12 بجے روانہ ہوگا اور رات کو کوہاٹ کے قریب قیام کرے گا۔
6 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے۔ اس کے بعد مارچ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہوگا اور رات متنی کے قریب قیام کرے گا۔
7 اکتوبر کو دوپہر ساڑھے 12 بجے مارچ پشاور کے علاقے بڈھ بیر سے دوبارہ روانہ ہوگا۔ اس موقع پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی قافلے میں شامل ہوں گے، جبکہ پشاور کے دیگر علاقوں سے لوگ کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازہ کے مقامات پر مارچ کا حصہ بنیں گے۔ قافلہ رات کو چارسدہ انٹرچینج کے قریب قیام کرے گا۔
8 اکتوبر کو دوپہر ساڑھے 12 بجے قافلہ چارسدہ انٹرچینج سے روانہ ہوگا، جبکہ چارسدہ اور مہمند کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد بھی مارچ میں شامل ہوں گے۔
خیرآباد میں اگلے مرحلے کا اعلان
سہیل آفریدی نے بتایا کہ 8 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے آنے والے افراد خیرآباد کے مقام پر جمع ہوں گے اور رات وہیں قیام کریں گے۔
ان کے مطابق لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کا لائحۂ عمل خیرآباد میں ہی بتایا جائے گا۔
مذاکرات کا دوسرا دور
لانگ مارچ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے مذاکرات کئی گھنٹے جاری رہے، تاہم فریقین کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے مذاکرات کے بعد کہا کہ ڈیڈلاک برقرار ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر اتفاق نہیں ہوسکا جبکہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے اقدامات پر بھی اختلاف برقرار رہا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے اور مارچ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوگا۔
مذاکرات میں اختلافات کی بنیادی وجوہات
بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق اپوزیشن کے مطالبات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق بعض معاملات پر بھی مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے۔
دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات میں زیادہ تر معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا، تاہم خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون کی یقین دہانی نہ کرانے کے باعث معاہدہ نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا مؤقف تھا کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بھی کہا کہ حکومت نے معاہدے کے مسودے میں دو سے تین مرتبہ تبدیلیاں کیں، لیکن خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف تعاون پر آمادہ نہیں ہوئی۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف تعاون صوبائی حکومت کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے اور حکومت اس معاملے پر سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔
اسلام آباد میں داخلے پر حکومت کا مؤقف
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ مذاکرات میں عمران خان سے ملاقات اور ان کے طبی علاج سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے، تاہم حکومت کے نزدیک یہ نسبتاً معمولی معاملات تھے جنہیں جیل کے قواعد اور قانون کے مطابق دیکھا جارہا ہے۔
مذاکرات میں اتفاق نہ ہونے کے بعد بیرسٹر گوہر علی خان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ لانگ مارچ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق جاری رہے گا۔
دوسری جانب رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ حکومت لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔


