پاکستان اور یونان کا غیرقانونی امیگریشن کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ یونان کے پاکستانی ورک ویزوں کی تعداد میں بھی اضافے کافیصلہ کیا گیا ہے۔
روم میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یونان کے وزیر برائے مہاجرت اتھاناسیس پلیورس سے اہم ملاقات کی جس میں غیرقانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے قانونی مائیگریشن کو فروغ دینے اور ورک ویزوں کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر زور دیا گیا کہ غیرقانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے قانونی ذرائع کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
فریقین کے درمیان گزشتہ دو برس سے زیر التواء مائیگریشن تعاون معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ باہمی تعاون کو مؤثر بنانے کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے انسانی سمگلنگ اور غیرقانونی امیگریشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور اس حوالے سے مؤثر اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کی پیشہ ورانہ استعداد کار بڑھانے اور ٹیکنالوجی بیسڈ آپریشنز میں یونان کے تعاون کا خیرمقدم کیا۔
یونانی وزیر اتھاناسیس پلیورس نے پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے قانونی مائیگریشن کے فروغ کے لیے ہر سطح پر تعاون بڑھانے کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات میں اٹلی میں پاکستان کے سفیر علی جاوید، ڈی جی وفاقی تحقیقاتی ادارہ ڈاکٹر عثمان انور، ایم ڈی پنجاب سیف سٹی اتھارٹی احسن یونس اور دیگر سینئر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھئِے


