اردو رپورٹ ڈیسک
معروف ٹی وی اینکر اور پاکستان عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے پیر کی علی الصبح مبینہ طور پر حراست میں لے لیا گیا۔
اہل خانہ اور ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار رات تقریباً 3 بجے لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع اقرار الحسن کے گھر پہنچے اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ واقعے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔
TV anchor Iqrar-ul-Hassan was reportedly taken from his Lahore home around 3am. https://t.co/norlX3NuVT
— Tariq Iqbal Chaudhry (@ChoudhryTariq) October 12, 2026
اہلیہ کا اغوا کا الزام
اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے الزام عائد کیا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب نامعلوم افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو اپنے ساتھ لے گئے۔
فیس بک پر جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں فرح اقرار نے بتایا کہ اہل خانہ سو رہے تھے کہ دروازے کی گھنٹی مسلسل بجنے لگی۔ وہ صورت حال دیکھنے کے لیے باہر آئیں تو انہیں گھر کے صحن اور باہر متعدد افراد موجود دکھائی دیے۔
ان کے مطابق ان افراد نے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے اور وہ اقرار الحسن کو باہر لانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ فرح اقرار کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ان افراد نے گھر کا نچلا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے کے بعد اوپر کی منزل کا رخ کیا۔
موبائل فون، لیپ ٹاپ اور سی سی ٹی وی ریکارڈنگ لے جانے کا دعویٰ
فرح اقرار نے دعویٰ کیا کہ اقرار الحسن کو ساتھ لے جانے والے افراد گھر سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر اور سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ان افراد کے ساتھ خواتین اہلکار بھی موجود تھیں، جن کی آستینوں پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے الفاظ درج تھے۔
قرۃ العین اقرار کی وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل
اقرار الحسن کی پہلی اہلیہ قرۃ العین اقرار نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ان کے شوہر کو کس مقصد کے تحت مبینہ طور پر لے جایا گیا ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی کہ وہ اقرار الحسن کی بازیابی کے لیے مدد فراہم کریں۔
وسیم بادامی کو بھی واقعے کی اطلاعات موصول ہوئیں
نجی ٹی وی کے اینکر پرسن وسیم بادامی نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں تصدیق کی کہ انہیں اقرار الحسن کو مبینہ طور پر حراست میں لیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
وسیم بادامی کے مطابق اقرار الحسن کو لے جانے والے اہلکار سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے اور ان کے ساتھ خواتین اہلکار بھی موجود تھیں۔ وسیم بادامی اقرار الحسن کے ساتھ مختلف پروگراموں میں کام کر چکے ہیں۔
حکام کے باضابطہ بیان کا انتظار
اقرار الحسن پاکستان عوام راج تحریک کے سربراہ اور نجی ٹی وی چینل کے سابق اینکر ہیں۔
تاحال انہیں مبینہ طور پر حراست میں لیے جانے کی وجوہات سامنے نہیں آئی ہیں اور نہ ہی ان کے خلاف درج کسی مقدمے کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
متعلقہ حکام کی جانب سے بھی واقعے کی تصدیق یا اس کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

