امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کابینہ کے اجلاس کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے 10 آئل ٹینکرز کو خیر سگالی کی علامت کے طور پر گزرنے کی اجازت دی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے 10 ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت بطور ’تحفہ‘ یہ ظاہر کرنے کے لیے دی کہ وہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے۔
خیال رہے امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ان کے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، تاہم ایران نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق دونوں ہی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ جنگ بندی کے لیے 15 نکاتی امریکی مجوزہ منصوبہ اسلام آباد کے ذریعے تہران بھیجا گیا ہے۔
ایران نے گذشتہ روز اس منصوبے پر ردِ عمل دیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ مذاکرات کا ارادہ نہیں
جبکہ ایران کے سرکاری ۔میڈیس کے مطابق ایران نے جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط رکھی تھیں۔
صدر ٹرمپ جمعرات کو ایک بار پھر مذاکرات پر اصرار کرتے ہوئے نظر آئے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’تیل سے بھرے آٹھ تیل کے ٹیکرز (آبنائے ہرمز سے) گزرے۔‘
’میرے خیال میں ان (آئل ٹینکرز) پر پاکستانی جھنڈے تھے۔ میں نے کہا ہم ٹھیک لوگوں سے بات کر رہے ہیں۔‘
اس کے بعد امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ماضی میں کہی گئی کسی بات پر معذرت بھی کی اور کہا ’ہم دو مزید جہاز (آئل ٹینکر) بھیج رہے ہیں اور پھر ان جہازوں کی تعداد 10 ہو گئی۔


