دبئی/فجیرہ: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران دبئی میں امریکی سفارتخانے پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ فجیرہ کی بندرگاہ پر بھی میزائل یا ڈرون حملے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
دبئی میں واقع امریکی قونصل خانے پر بظاہر ایک ایرانی ڈرون نے منگل کی شب پانچ روز چلنے والی ایران کے ساتھ جنگ کے دوران حملہ کیا ہے جہاں پر آگ کے شعلے بھڑکتے ہوئے دکھائی دئِے۔
پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ: 40 ہلاک، 70 زخمی
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی میں امریکی فوجی اجتماع کو نشانہ بنایا گیا۔ دعوے کے مطابق حملہ اُس وقت کیا گیا جب 160 امریکی فوجی ایک مقام پر موجود تھے، جن میں سے 40 ہلاک اور 70 زخمی ہوئے۔
تاحال امریکی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکا کے ایران پر حملے تیز
دوسری جانب امریکہ اور اس رائ یل نے ایران پر اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ تازہ کارروائی میں ایران کے شہر قم میں مجلسِ خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) کی عمارت کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قم ایران کا نہایت اہم مذہبی اور سیاسی مرکز ہے، اور وہاں کسی سرکاری یا مذہبی ادارے کو نشانہ بنایا جانا ایران کے لیے علامتی اور اسٹریٹجک دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
ہلاکتوں کی تعداد 1000تک پہنچ گئی
رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز سے شروع ہونے والے حملوں میں اب تک کم از کم 1000افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہیں۔
آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی تعداد کی مکمل تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھئِے


